سعودی میڈیا کی جانب سے ایک اہم ترین دعویٰ سامنے آیا ہے کہ جس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ’مفاہمتی یادداشت‘ کا اعلان فریقین کے بجائے پاکستان کرے گا اور مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی 5 جون کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے نشریاتی اداروں، العریبیہ اور الحدث نے اعلیٰ ترین ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان فریقین کی غیر موجودگی میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ عبوری معاہدے کا اعلان کرے گا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے آئندہ مرحلے کی راہ ہموار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس اعلان کے بعد توقع ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں حتمی معاہدے میں متفقہ نکات پر مذاکرات کے لیے واشنگٹن اور تہران اپنے وفود کے سربراہان کو بھیجیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات کا آئندہ دور 5 جون کو ہونے کا امکان ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی معاہدہ محض ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی صورت میں ہوگا، جسے ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ کا نام دیا جائے گا۔ اس معاہدے کے بعد حتمی اور حل طلب نکات پر تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
رپورٹ میں ایران ذرائع کے حوالے سے بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ایران کی قومی سلامتی کونسل اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو اسے حتمی توثیق کے لیے ایران کے سپریم لیڈر کو بھیجا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ایران جنگ کے حوالے سے باقاعدہ اعلان آج کسی وقت متوقع ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ معاہدے میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔