روس نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ اہم بیان وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس سنگین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنے پر بات پر زور دیا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار استحکام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ خطے میں امن کے اس عمل کو اسی صورت میں تقویت مل سکتی ہے جب امریکا دھمکیوں اور الٹی میٹم کی زبان ترک کر کے صورتِ حال کو سفارت کاری اور مذاکرات کی جانب واپس لائے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں اس کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق روس نے امید ظاہر کی کہ ایران کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
بیان میں امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہری تنصیبات پاورپلانٹس خصوصاً بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر پر حملے بند کرے جہاں روسی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔