عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران اور لبنان میں اسپتالوں اور طبی مراکز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت صحت کے مراکز کو تحفظ حاصل ہونا چاہیے اور انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
عالمی ادارۂ صحت نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے خطے میں بڑے پیمانے پر جاری جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعرات کو پریس بریفنگ میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ایران میں صحت کے شعبے پر 13 جب کہ لبنان میں ایک طبی مرکز پر حملے کی تصدیق کی۔
اسی بریفنگ میں مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے بتایا کہ ایران میں چار ایمبولینسیں متاثر ہوئی ہیں جب کہ دھماکوں کے باعث اسپتالوں اور دیگر طبی مراکز کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
سرکاری بیانات کے مطابق جنگ کے ساتویں روز تک ایران میں کم از کم ایک ہزار 230 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زائد ہوچکی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے 13 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ 6 امریکی فوجی اہلکاروں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں جانب سے ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔