عالمی منڈی میں ہونے والے بڑے اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے جس نے مقامی خرافہ بازاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں ایک ہی دن میں 153 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر سونے کی قیمت 4713 ڈالر فی اونس کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کے اثرات فوری طور پر مقامی قیمتوں پر بھی نظر آئے ہیں اور سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
مقامی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 15 ہزار 300 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ملک میں ایک تولہ سونا 4 لاکھ 94 ہزار 62 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ حالیہ عرصے کے بڑے اضافوں میں سے ایک ہے جس نے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 13 ہزار 117 روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب مقامی مارکیٹ میں دس گرام سونا 4 لاکھ 23 ہزار 578 روپے کا ہو گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے کہ ”امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے کسی پیشگی معاہدے کا محتاج نہیں ہے“، عالمی حصص بازاروں میں نئی جان ڈال دی ہے اور اسی لہر کے ساتھ سونے کی قیمتوں کو بھی سہارا ملا ہے۔
عام طور پر جب ڈالر سستا ہوتا ہے تو سونا خریدنا دیگر کرنسیوں کے حامل افراد کے لیے آسان ہو جاتا ہے جس سے اس کی طلب اور قیمت بڑھ جاتی ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ اگر مہنگائی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے اور شرح سود میں اضافہ ہوا تو سونے کی قیمتوں میں اضافے کی یہ رفتار سست بھی ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ یعنی مارچ میں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں 11 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی جو کہ 2008 کے بعد ایک ماہ میں ہونے والی سب سے بڑی کمی تھی۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا تھا اور امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے امکانات بھی ختم ہو گئے تھے۔
اب اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور جنگ بندی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام یا مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔