ایران کا مرجانی جزیرہ ’خارگ‘؛ قبضے کے پلان کے بعد اب امریکی حملوں کی زد میں کیوں ہے؟ – World



14182130c4a811d ایران کا مرجانی جزیرہ ’خارگ‘؛ قبضے کے پلان کے بعد اب امریکی حملوں کی زد میں کیوں ہے؟ - World

امریکا نے ایران پر حملوں میں اب تہران اور دوسرے شہروں کے علاوہ ’خارگ‘ نامی جزیرے کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اس جزیرے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے اور یہ ایرانی ’آئل اکانومی‘ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سخت فوجی نگرانی کے باعث ایران میں اسے ’ممنوعہ جزیرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ایران کا جزیرہ ’خارگ‘ خلیج فارس کے شمالی حصے میں واقع ایک انتہائی اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل جزیرہ ہے، جو ایران کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے اب تک ایران کے شہروں تک حملے محدود رکھے ہوئے تھے تاہم اب اس جزیرے کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔

تاہم جنگ کے پندرہویں روز یعنی 14 مارچ کی صبح یہ جزیرہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے اس جزیرے پر واقع ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی سب سے طاقتور بمباری قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ فی الحال جزیرے پر موجود تیل کی تنصیبات کو تباہ نہیں کیا گیا تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔

اس دھمکی کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر خارگ میں تیل کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو امریکا اور اسکے اتحادیوں کی ملکیت تیل اور توانائی کمپنیوں کو تباہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا فوجیں اتارنے کا آپشن بھی زیرِ غور آیا تھا۔

خارگ جزیرے کو ایران میں ’ممنوعہ جزیرہ‘ کہا جاتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی سخت سیکیورٹی کے باعث یہاں صرف خصوصی سرکاری اجازت کے حامل افراد کو ہی داخلہ دیا جاتا ہے۔

جغرافیائی طور پر یہ ایران کے صوبہ بوشہر کے زیرِ انتظام ہے۔ یہ بظاہر سمندر میں زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے مگر ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *