سانحہ گُل پلازہ: ایم کیو ایم کی عدالتی تحقیقات میں فریق بننے کی درخواست مسترد – Pakistan
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی فریق بننے کی درخواست مسترد کر دی۔
کراچی کے معروف شاپنگ سینٹر گُل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کی عدالتی انکوائری کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات جاری ہیں۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں پیر کے روز جوڈیشل کمیشن کی تیسری سماعت ہوئی۔ پولیس افسران، میونسپل کمشنر کراچی میٹروپولیٹن کمیشن (کے ایم سی) اور ڈائریکٹر سول ڈیفنس کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور مختلف سوالات کے جوابات دیے۔
سماعت کے موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں ایم کیو ایم کا وفد بھی سندھ ہائی کورٹ پہنچا اور کمیشن میں فریق بننے کی استدعا کی تاہم جوڈیشل کمیشن نے ایم کیو ایم کی فریق بننے کی درخواست کو مسترد کردیا۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کمیشن کو بتایا انہیں رات 10 بج کر 32 منٹ پر آگ کی پہلی اطلاع ملی تھی، آگ بہت بہت جلدی جلدی تینوں طرف پھیل رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی کہ ایک دکان پر بچے ماچس سے کھیل رہےتھے، لوگوں کے سمجھانے کے باوجود بچوں نے بات نہیں مانی۔
جسٹس آغا فیصل نے ایس ایس پی سٹی سے استفسار کیا کہ کیا وہاں پر سی سی ٹی وی موجود تھے، ان کے ڈی وی آرز کہاں ہیں۔ ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا کہ ڈی وی آر مکمل طور پر جل چکے تھے۔
ایس ایس پی ٹریفک اعجاز شیخ نے کمیشن میں کو بتایا کہ گرین لائن پروجیکٹ کی وجہ سے سے ایم اے جناح روڈ بہت زیادہ ڈسٹرب ہے، ہماری کوشش تھی کہ واٹر باؤزر کو بھی یہاں تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
میونسپل کمشنر کے ایم سی سمیرا حسین کا کہنا تھا کہ 1991 میں یہ عمارت کے ایم سی سے 99 سالہ لیز پر لی گئی تھی۔
ڈائریکٹر سول ڈیفنس عبدالحمید نے بتایا کہ سول ڈیفنس کے پاس وسائل اور افرادی قوت بہت کم ہے۔ یہاں عمارتیں زیادہ ہیں اور ہمارے پاس وسائل کم ہیں جس کی وجہ سے سروے کرنا مشکل ہوتا ہے۔
دوسری جانب فاروق ستار نے جوڈیشل کمیشن میں فریق بننے کی درخواست مسترد ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح تحقیقات ہو رہی ہیں اس پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں۔
سندھ ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہم معاونت کے لیے آئے تھے مگر ہمیں سنا نہیں گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن میں جس طرح سماعت ہورہی ہے اور جو سوال پوچھے جا رہے ہیں اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی دستاویزات ہیں جو واضح طور پر نشاندہی کریں گی کہ اس عمارت کی تعمیر میں بے ضابطگیاں ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ درخواست ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ کمیشن سے مطالبہ ہے کہ ہمارے وکیل کو ایک گھنٹہ اور مجھے بھی آدھا گھنٹہ سنا جائے۔
فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم بطور پارٹی فریق بن سکتی ہے۔ سب سے پہلے ایم کیو ایم نے ہی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سارے ثبوت میڈیا کے سامنے بھی پیش کرے گی۔
Post Comment