بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق جنگ کے باعث خطے میں درجنوں توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل و گیس کی عالمی سپلائی کی بحالی میں خاصا وقت لگ سکتا ہے اور منڈیوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
بلومبرگ کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث نو ممالک میں واقع 40 سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید یا انتہائی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی چین میں خلل طویل ہونے کا خدشہ ہے۔
ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں نیشنل پریس کلب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ تنصیبات میں تیل کے کنویں، ریفائنریز اور پائپ لائنز شامل ہیں، جن کی بحالی میں وقت درکار ہوگا۔
فاتح بیرول کے مطابق تین ہفتوں سے جاری جنگ نے عالمی توانائی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کی شدت 1970 کی دہائی کے تیل بحران اور 2022 کے گیس بحران کے مجموعی اثرات کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف تیل اور گیس ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے اہم شعبے جیسے پیٹروکیمیکلز، کھاد، سلفر اور ہیلیم کی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ایشیا اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔
ادھر بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سپلائی میں کمی کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ 400 ملین بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جب کہ ضرورت پڑنے پر مزید ذخائر بھی مارکیٹ میں لائے جا سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی بحران کا اصل حل آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری تجارت کی مکمل بحالی میں ہے، جس کے بغیر عالمی ایندھن سپلائی میں استحکام ممکن نہیں۔