وائٹ ہاؤس نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار (ایٹم بم) استعمال کرنے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اس نوعیت کی کسی منصوبہ بندی پر غور نہیں کر رہا۔
ترک میڈیا کے مطابق منگل کو جاری بیان میں وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور اس میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ امریکا کے پاس ایسے ”ذرائع“ موجود ہیں جو اب تک استعمال نہیں کیے گئے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ”ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے“، جس کے بعد قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی تھیں، خصوصاً اس وقت جب ایران کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 بجے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے اور اگر اس وقت تک پیش رفت نہ ہوئی تو بڑا حملہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر مقررہ وقت آ گیا تو ایسا حملہ کیا جائے گا ”جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا“۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج بات چیت کا عمل آگے بڑھتا ہے تو معاملات میں تبدیلی ممکن ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ممکنہ مذاکرات کے باوجود صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے۔