پاکستان کی ایران پر ہوئے حملوں کی مذمت، امریکا میں مظاہرے – Pakistan



01094754f4d06b0 پاکستان کی ایران پر ہوئے حملوں کی مذمت، امریکا میں مظاہرے - Pakistan

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ساتھ ہی بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی عرب ممالک مذاکرات کی حمایت کر رہے تھے، لیکن جاری سفارتی عمل کو حملوں کے ذریعے پٹڑی سے اتار دیا گیا۔

عاصم افتخار نے ایران میں ایک اسکول میں بچوں کی ہلاکت اور متحدہ عرب امارات میں ایک شہری کی جان جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے سربراہان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور بعض خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی۔

وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے اور خطے میں امن کے لیے سفارتکاری اور بات چیت کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے ابوظہبی میں میزائل حملے میں جاں بحق ہونے والے ایک پاکستانی شہری کے اہل خانہ سے بھی تعزیت کی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر حال میں ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے اور خطے کو جنگ کے دہانے سے واپس لایا جائے۔

اجلاس میں فرانس نے خطے کے دیگر ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ایران کی پالیسی سے عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

بحرین کے مندوب نے بھی کہا کہ ایران نے ان کے ملک پر حملہ کر کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

روسی مندوب نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال خطرناک رخ اختیار کر رہی ہے اور سلامتی کونسل کو ان حملوں کی مذمت کرنی چاہیے۔

ایرانی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مناب شہر پر حملے میں سو سے زائد بچے مارے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنے دفاع میں جواب دیا ہے اور انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، چین اور روس کا شکریہ ادا کیا کہ ان ممالک نے ان کا ساتھ دیا۔

امریکا کے اندر بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔

نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ غیر قانونی اور اشتعال انگیزی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام استحکام اور امن چاہتے ہیں، نہ کہ ایک نئی جنگ۔ ان کے مطابق شہروں پر بمباری اور شہریوں کی ہلاکت صورتحال کو مزید خراب کرے گی۔

نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی شہری سڑکوں پر نکل آئے اور وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔

مظاہرین نے حملوں کے خلاف نعرے لگائے اور صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ایران پر حملے بند کیے جائیں۔

ادھر سعودی عرب نے بھی خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ بحرین، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن پر حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *