بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر سمیت لاپتہ ہونے والے چاروں اہلکار بازیاب ہوگئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل اسٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل کو ضلع مستونگ سے بازیاب کرایا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر اتوار کی شام اپنے گھر پہنچ گئے جب کہ دیگر اہلکار بھی محفوظ ہیں۔ واقعے کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی تاہم بازیابی کی خبر سامنے آنے پر اہل خانہ اور یونیورسٹی انتظامیہ نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد، پرسنل اسٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل 13 مئی کو گوادر سے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے تاہم راستے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں اور پولیس کی جانب سے تلاش کا عمل جاری تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق چاروں اہلکار ضلع مستونگ سے بازیاب ہوگئے ہیں جب کہ وائس چانسلر اتوار کی شام اپنے گھر پہنچ گئے، اہلکاروں کی بازیابی کے بعد یونیورسٹی اساتذہ، طلبہ اور اہلخانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو حکومت بلوچستان نے 25 اکتوبر 2021 کو یونیورسٹی آف گوادر کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔ انہوں نے 29 اکتوبر 2021 کو عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور وہ چار سال سے وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات ہیں۔
گوادر میں جنوری 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور 25 اکتوبر 2021 کو یہ مکمل خودمختار یونیورسٹی بن گئی۔ اس وقت یونیورسٹی میں 2000 طلبا زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی آف گوادر میں دو فیکلٹیز کام کر رہی ہیں جن میں فیکلٹی آف مینیجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔