استری سے جلے ڈیزائن کی شرٹ متعارف، قیمت سنتے ہی ہوش اڑ جائیں! – Trending



22172030eb60bb8 استری سے جلے ڈیزائن کی شرٹ متعارف، قیمت سنتے ہی ہوش اڑ جائیں! - Trending

عالمی فیشن برانڈ نے اپنی نئی کلیکشن میں ایک منفرد اور غیر روایتی ڈیزائن متعارف کرا دیا ہے، جس نے فیشن حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس بار برانڈ نے ایسی شرٹ پیش کی ہے جس پر استری سے جلنے کے نشان جیسا پرنٹ بنایا گیا ہے، جسے ’آئرن برن‘ اسٹائل کا نام دیا جا رہا ہے۔

یہ شرٹ بظاہر ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے کپڑا استری کے دوران جل گیا ہو، مگر درحقیقت یہ ایک سوچا سمجھا گرافک ڈیزائن ہے۔ پہلی نظر میں دیکھنے والا اسے نقص سمجھ سکتا ہے، تاہم برانڈ نے اسے آرٹسٹک اظہار کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس منفرد انداز نے سوشل میڈیا اور فیشن شائقین کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے۔

شرٹ کی قیمت تقریباً 1,139 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 24 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ یہی قیمت بھی صارفین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ کئی افراد کے لیے یہ قیمت حیران کن ہے، جبکہ کچھ اسے لگژری فیشن مارکیٹ کا معمول قرار دے رہے ہیں۔

فیشن ماہرین کے مطابق بڑے عالمی برانڈز اب روایتی خوبصورتی کے تصور سے ہٹ کر ایسے تجربات کر رہے ہیں جو روزمرہ زندگی کے عام مناظر یا نقائص کو بھی ڈیزائن کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ اس طرح کے ملبوسات کا مقصد صرف پہننا نہیں بلکہ ایک خیال یا پیغام پیش کرنا بھی ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے ڈیزائن عام صارف کے بجائے مخصوص خریداروں، کلیکٹرز اور فیشن ایونٹس کے لیے زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔ ایسے ملبوسات اکثر فیشن ویک، اسٹائل بلاگز اور ہائی فیشن حلقوں میں زیرِ بحث آتے ہیں، جہاں ان کی قدر ان کی انفرادیت اور برانڈ ویلیو کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس شرٹ کے حوالے سے ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے تخلیقی آزادی اور جدید فیشن سوچ کی مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ اس طرح کے ڈیزائن زیادہ تر توجہ حاصل کرنے کے لیے متعارف کرائے جاتے ہیں۔

ویٹی مینٹس اس سے قبل بھی غیر روایتی اور جرات مندانہ ڈیزائنز پیش کرتا رہا ہے، جن میں عام اشیاء یا غیر متوقع عناصر کو لباس کا حصہ بنایا گیا۔ تازہ پیشکش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔

یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ دور میں فیشن صرف پہننے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ فن، اظہار اور تجربے کی ایک شکل اختیار کر چکا ہے، چاہے وہ استری کے جلے نشان جیسا غیر معمولی تصور ہی کیوں نہ ہو۔



Source link

Post Comment