الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے 36 معطل ارکان کی رکنیت بحال کردی – Pakistan



پنجاب اسمبلی کے 36 معطل ارکان کی رکنیت بحال ہوگئی ہے جب کہ اپوزیشن اور حکومت کے ان 36 ارکان اسمبلی نے گوشوارے جمع کروادیے ہیں۔

بدھ کو الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع کروانے پر ارکان پنجاب اسمبلی کی رکنیت بحال کردی ہے۔ 50 ارکان کی رکنیت گوشوارے جمع نہ کروانے پر معطل کی گئی تھی۔ جب کہ 14 ارکان پنجاب اسمبلی نے تاحال گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

اراکین پنجاب اسمبلی مہر محمد نواز، ملک غلام حبیب اعوان کی رکنیت بحال ہوگئی، رانا محمد سلیم، سید اعجاز حسین بخاری اور چوہدری نعیم اعجاز کی بھی رکنیت بحال کردی گئی۔

چوہدری اعجاز احمد، محمد نواز چوہان، عارف محمود گل، جاوید نیاز منج، رانا طاہر اقبال، رانا سکندر حیات، میاں محمد منیر، عمران اکرم، محمد عدنان ڈوگر، سردار پرویز اقبال گورچانی، تاشفین صفدر، ایمانوئیل آتھر، سردار محمد عاصم شیر میکن اور امتیاز محمود کی بھی رکنیت بحال ہوگئی۔

اسی طرح علی حسین خان، جعفر علی ہوچا، محمد طاہر پرویز، میاں محمد آصف، اسامہ فضل اور محمد معین الدین ریاض بھی رکنیت بحال ہونے والوں میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، سردار شیر افغان گورچانی، محمد عون حمید، روبینہ نذیر، منصور اعظم، محمد آصف ملک، محمد کاشف، علی عباس، محمد علی رضا خان خاکوانی اور صلاح الدین خان کی بھی رکنیت بحال کر دی گئی۔

اس سے قبل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کروانے کا حق بھی کھو بیٹھی ہے۔

اپوزیشن ارکان کی جانب سے مالیاتی گوشوارے جمع نہ کروانے کا معاملہ مہنگا پڑ گیا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے گزشتہ دنوں 13 اپوزیشن ارکان کو معطل کر دیا۔

معطلی سے قبل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 99 تھی تاہم 13 ارکان کی معطلی کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 86 رہ گئی ہے۔ اسمبلی قواعد کے مطابق اجلاس بلانے کے لیے کم از کم 93 ارکان کی ریکوزیشن درکار ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اب اپوزیشن اس آئینی و پارلیمانی حق سے محروم ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق معطل ہونے والے ارکان میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کا نام بھی شامل ہے، جس سے اپوزیشن کو ایوان کے اندر مزید کمزوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اپوزیشن اسمبلی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو چکی ہے، جس کے بعد ایوان میں اس کا کردار مزید محدود ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی مسلسل کم ہوتی عددی طاقت پنجاب اسمبلی میں حکومتی امور پر مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *