امارات کے تعلیمی اداروں میں جنک فوڈ کھانے پر پابندی – World



Ads

متحدہ عرب امارات کا شہریوں اور رہائشیوں کو ایک صحت مند اور اعلٰی معیارِ زندگی فراہم کرنے کے لیے مستقل اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت کی یہ کوششیں بچوں کی خوراک اور صحت سے لے کر مجموعی طرز زندگی تک ہر شعبے میں معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں مضبوط، متوازن اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

خلیج ٹائمزکے مطابق ابو ظہبی کے تمام ابتدائی تعلیم کے اداروں کو تعلیمی محکمے ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بچوں کے کھانے اور غذائی عادات کے لیے جامع پالیسی نافذ کریں اور والدین کو ہر فیصلے میں شامل کریں تاکہ بچوں کی صحت مند خوراک کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان ہدایات کے مطابق نہ صرف اسکول کے فراہم کردہ کھانے بلکہ گھر سے لائے جانے والے آئٹمز بھی اسکول میں ممنوع ہوں گے۔ ابتدائی تعلیم کے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ والدین کو غذائی فیصلوں میں شامل کریں اور بچوں کی خوراک پر باقاعدہ نظر رکھیں۔

نئی ہدایات کا مقصد بچوں میں صحت کے خطرات کو کم کرنا، انہیں متوازن غذائیت فراہم کرنا، اور اسکول میں کھانے کے معیار کو یکساں بنانا ہے۔

اسکولوں کو لازمی طور پر شکر والے مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس، شربت والے پھلوں کے جوس، اور انرجی ڈرنکس اسکول میں فراہم کرنے یا لانے سے روکنا ہوگا۔

کیفین والے مشروبات جیسے گرم یا آئسڈ کافی اور چائے بھی ممنوع ہیں۔ اسی طرح زیادہ شکر والے کھانے، جن میں کینڈی، مٹھائیاں، مارش میلو، کیرمیل، لالی پاپ، جیلی اور چاکلیٹ شامل ہیں، بچوں کے لیے اسکول میں ممنوع قرار دیے گئے ہیں، جبکہ آئس کریم اور دیگر پروسیس شدہ ٹھنڈے میٹھے ڈیزرٹس بھی شامل ہیں۔ نمک کی زیادہ مقدار والے کھانے بھی اسکول کی حدود میں نہیں لائے جا سکتے۔

فرائی کی ہوئی غذائیں جیسے فرائیڈ چکن، چکن نگٹس، فلافل اور سموسے، آلو اور مکئی سے بنی چپس اور دیگر اسنیکس، پروسیس شدہ گوشت اور اچار والے سبزیاں اسکول میں ممنوع قرقر دے دی گئی ہیں۔

الٹرا پروسیس شدہ غذاؤں پر بھی پابندی ہے، جس میں مصنوعی میٹھاس، پریزرویٹوز، رنگ، ذائقہ، مونوسوڈیم گلوٹامیٹ یا مخصوص فوڈ ایڈیٹیوز جیسے سن سیٹ ییلو (E110)، کوئنولین ییلو (E104)، کارموازین (E122)، الورا ریڈ (E129)، ٹارٹرازین (E102)، اور پونسو 4R (E124) شامل ہوں۔

اسی طرح سوسز بھی محدود ہیں، جیسے مایونیز، چلی سوس (ساشے میں یا خشک)، کیچپ (سوائے کم نمک اور کم شکر والے)، اور تیار شدہ سوسز جیسے رینچ، ہری مرچ، اور اطالوی سوس بھی اسکول میں استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

مزید برآں، سور کے گوشت اور اس سے بنی مصنوعات، شراب یا اس سے سے بنی کوئی غذا، ہائیڈروجنیٹڈ فیٹس، ایک سال سے کم عمر بچوں کے لیے شہد، غیر پیسٹوورائزڈ خوراک اور مشروبات اور سویا سے بنائی گئی تمام اشیاء بچوں کے لیے ممنوع ہیں۔

ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کے مطابق ابتدائی تعلیمی اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ یہ قواعد درست طور پر نافذ ہو رہے ہیں۔

تعلیمی ادارے اس پالیسی کی نگرانی کے لیے ایک ذمہ دار عملہ مقرر کریں گے، جیسے نرس یا ہیلتھ اینڈ سیفٹی آفیسر، جو ممنوعہ اشیاء کی موجودگی پر نظر رکھے گا اور خلاف ورزیوں کی ریکارڈنگ کرے گا۔ بار بار عدم تعمیل کی صورت میں اصلاحی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

اسکولوں میں بچوں کی غذائی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا اور خصوصی مواقع پر فراہم کیے جانے والے کھانے صاف، محفوظ اور معیاری ہوں گے۔ چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو صرف بچوں کے ماہر ڈاکٹر کی ہدایت پر خوراک یا پانی دیا جائے گا اور دو سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے صحت مند غذائی رہنما اصول لازمی ہوں گے۔

اگر کوئی ابتدائی تعلیمی ادارہ اس پالیسی کی خلاف ورزی کرتا ہے، تو اسے ڈپارٹمنٹ آف ایجوکیشن اینڈ نالج کے قوانین کے تحت قانونی کارروائی اور جرمانے بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔



Source link

Post Comment