امریکا اور اسرائیل کی ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کیا ہے؟ – World



0816022586b027f امریکا اور اسرائیل کی ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کیا ہے؟ - World

ایران کے ایک ماہرِ تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو کمزور کر کے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران سامنے آنے والے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران کے نقشے کو بدلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

پروفیسر فواد ایزدی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ موجودہ شکل میں نہیں رہے گا۔

ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے سیاسی اصطلاح میں ”بالکنائزیشن“ کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے امریکا کی توجہ ایران کے ان علاقوں پر ہو جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، خاص طور پر خلیج فارس کے شمالی ساحلی علاقے۔

اُن کے بقول اگر ایسا منصوبہ بنایا گیا تو ان تیل سے مالا مال علاقوں کے لیے الگ انتظام قائم کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر حصوں کو کم اہم سمجھا جا سکتا ہے۔

فواد ایزدی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں بعض طاقتیں ایران میں ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہیں جس میں حکومت کمزور ہو جائے یا قیادت کا خلا پیدا ہو۔

ان کے مطابق اس طرح کے حالات میں ملک کے سیاسی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایران کے موجودہ ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

تاہم، اس معاملے پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف ماہرین اور حکام کی جانب سے متعدد دعوے اور خدشات سامنے آ رہے ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس کی جغرافیائی اور توانائی کی اہمیت کے باعث اس کے بارے میں کسی بھی بڑے سیاسی یا جغرافیائی منصوبے کے عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *