امریکا اور اسرائیل کے اصفہان میں بنکر بسٹرز سے اسلحہ گوداموں حملے، ٹرمپ نے ویڈیو جاری کردی – World



310903212747e45 امریکا اور اسرائیل کے اصفہان میں بنکر بسٹرز سے اسلحہ گوداموں حملے، ٹرمپ نے ویڈیو جاری کردی - World

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے جہاں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر حملے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دارالحکومت تہران، کرج اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اصفہان میں ہونے والے حملوں میں بھاری نوعیت کے بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے سنے گئے اور متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اصفہان میں ہونے والے حملے میں اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصفہان میں ہونے والے دھماکے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر اس واقعے پر بحث تیز ہوگئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایران کے شہر اصفہان میں بڑے دھماکوں کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اصفہان، جس کی آبادی تقریباً 23 لاکھ ہے، ایک اہم شہر ہے جہاں بدر ملٹری ایئر بیس بھی واقع ہے۔

۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پیر کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے جو فوجی اور سفارتی اقدامات کیے ہیں، ان میں اب تک پیش رفت کے لیے ایران کو دس دن کا آخری موقع دیا گیا ہے۔

لیوٹ نے کہا کہ اگر ایران نے یہ موقع ضائع کیا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر ممکنہ آپشن استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ہر گزرتے دن ایران پر مزید مہلک حملے کر رہا ہے تاکہ ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔

کیرولائن لیوٹ نے مزید کہا کہ باقی رہ جانے والے ایرانی رہنما ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، لیکن اگر یہ موقع ضائع ہوا تو ایران کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے حملے صرف ایران کے نیوکلئیر اور عسکری ہدف پر مرکوز ہیں تاکہ خطے میں خطرات کو محدود کیا جاسکے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس صورتحال میں جنگی اخراجات کے لیے عرب ممالک سے مدد طلب کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، تاکہ آپریشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *