امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے جب کہ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ثالثی ممالک کی کوشش ہے کہ بات چیت اسلام آباد میں ہو۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔
گزشتہ برس بھی امریکی حکومت نے ایران کے معاملات میں ثالثی کے لیے پاکستان کی آمادگی کو سراہا تھا۔ یہ مذاکرات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی اور توانائی کے عالمی بحران نے نئی شدت اختیار کر لی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے خطرناک صورت حال کو قابو میں لانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
کشیدگی کم کرنے کی حالیہ بات چیت میں پاکستان، ترکی اور مصر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے رپورٹر کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایران چاہتا ہے کہ امریکا جو جنگ کا آغاز کرنے والا فریق ہے براہِ راست مذاکرات میں شریک ہو۔
رائٹرز کے مطابق اس کے رپورٹر نے ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ گفتگو کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور باقی مسائل کا حل تھا۔
پاکستان، ترکی اور مصر کے تعاون سے مذاکرات کے راستے کھل گئے جس سے خطرناک صورت حال کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی بجلی گھروں پر کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے مؤخر کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایران اور خلیجی ممالک دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے، جس کے باعث اسے ایک ممکنہ غیر جانبدار ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔