امریکا نائن الیون کے بعد سے اب تک کتنے ممالک پر حملے کر چکا ہے؟ – World



0414123854f3eff امریکا نائن الیون کے بعد سے اب تک کتنے ممالک پر حملے کر چکا ہے؟ - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو ملک کو معیشت پر بوجھ اور نقصان کا باعث بننے والی جنگوں سے باہر نکالنے کے وعدے پر اقتدار میں آئے تھے، اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف نئی جنگ چھیڑ چکے ہیں، جس میں اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے علاوہ ایران پر کئی روز سے مسلسل بمباری کی جارہی ہے۔

امریکا کی دوسرے ممالک پر حملوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس نے 2001 میں نائن الیون حملوں کے بعد سے پوری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک مہم شروع کی۔ اس دوران کئی ممالک امریکی فضائی، ڈرون یا زمینی حملوں کی زد میں آئے جب کہ امریکی فوج نے اس دوران کئی ممالک میں ٹارگٹڈ کارروائیاں بھی کیں۔

11 ستمبر 2001 کو نیویارک کے مشہور ’ٹوئن ٹاورز‘ سے دو طیاروں کے ٹکرانے کے واقعے نے دنیا کو ایسی صورتِ حال سے دو چار کیا جس کے اثرات آج تک زائل نہیں ہوسکے ہیں۔

ان حملوں کے بعد امریکا نے دنیا پر تین جنگیں مسلط کیں اور 10 ممالک پر ڈرون اور فضائی حملے کیے جب کہ کئی ممالک کی خودمختاری کو نشانہ بناتے ہوئے براہِ راست فوجی مداخلت بھی کی۔

امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر جن ممالک پر حملے کیے ان میں افغانستان، عراق، پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا، شام اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ممالک میں میں فوجی آپریشنز کیے گئے، کہیں براہِ راست لڑائی کے علاوہ ڈرون اور میزائل حملے بھی کیے اور بعض ممالک لمبے عرصے تک امریکی حملوں کی زد میں رہے۔

اس پورے عرصے میں امریکی صدور فوجی طاقت کو اپنے اسٹریٹجک مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے، جس کی حالیہ مثال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی ہے۔

الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے تجزیے کا ذکر کیا ہے جس کے مطابق 2001 سے امریکی قیادت میں جنگیں براہ راست افغانستان، پاکستان، عراق، شام، یمن اور دیگر تنازعات والے علاقوں میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بنیں، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

تاہم ان اعداد و شمار میں قحط، صحت کی عدم سہولیات یا جنگ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی اموات شامل نہیں ہیں۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *