امریکا کی امیگرنٹ ویزوں پر پابندی سے کون متاثر ہوگا؟ – World



امریکا نے پاکستان، روس، ایران اور افغانستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ (مستقل) ویزوں کا اجراء غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے متوسط طبقے کے علاوہ امیر افراد اور اشرافیہ پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بدھ کے رورز 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ روکنے کا اعلان کیا ہے اور قونصل خانوں کو متاثرہ ممالک سے آنے والی امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ اقدام نومبر میں جاری کیے گئے اس حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے جس میں ممکنہ طور پر ’پبلک چارج‘ بننے والے ممکنہ تارکین وطن کے لیے قواعد مزید سخت کردیے گئے تھے۔

’پبلک چارج‘ (عوامی بوجھ) دراصل امریکی امیگریشن قانون کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جو حکومتی امداد پر انحصار کرتا ہو۔ دوسرے ممالک کے وہ شہری جو قانونی طور پر امریکا میں مستقل رہائش حاصل کر چکے ہوں، مختلف سہولیات اور فوائد کے حقدار ہوتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ دیگر ممالک سے آنے والے زیادہ تر لوگ اپنا خرچہ خود اٹھانے کے بجائے امریکی حکومت کی مفت سہولیات پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ صرف وہی افراد امریکا آئیں جو اتنے مالدار یا ہنرمند ہوں کہ امریکا آنے کے بعد فوائد سمیٹنے کے بجائے معیشت کو فائدہ دیں۔

جن ممالک پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں پاکستان، روس، افغانستان، برازیل، ایران، عراق، مصر، صومالیہ، نائجیریا، تھائی لینڈ، یمن سمیت مجموعی طور پر 75 ممالک شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس فہرست میں کویت بھی شامل ہے جو ایک خوشحال ملک تصور کیا جاتا ہے۔

یہ پابندی 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گی اور حالیہ دنوں میں ویزا پابندیوں کے حوالے سے امریکا کے سخت اقدامات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف امیگرنٹ ویزوں پر لاگو ہوگا، جن کے ذریعے غیر ملکی شہری مستقل رہائش یا گرین کارڈ کے حصول کے لیے امریکا کا رخ کرتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی شق 212(4 اے) کے تحت ایسے افراد کو امریکا میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے جو مستقبل میں حکومتی امداد پر انحصار کرنے کے امکانات رکھتے ہوں۔

امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی سفارت خانوں کو نان امیگرنٹ ویزا کی درخواستوں کی بھی جانچ پڑتال کی ہدایت دی گئی ہے کہ آیا وہ امریکا میں سرکاری سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *