اگر کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا تو نئی کارروائیوں سے نہیں ہچکچائیں گے: خواجہ آصف – Pakistan



Ads

وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور کابل پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ایک پیج پر ہیں، کابل دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں، اگر کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا تو نئی کارروائیوں سے نہیں ہچکچائیں گے۔

جمعے کو اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل یا ڈھیل نہیں ہورہی، ہوسکتا ہے سہولتوں سے متعلق لوگوں نے اپروچ کیا ہو، پی ٹی آئی کی ان باتوں کا مقصد آسرا دینا ہوتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ امریکا کامیاب رہا، غزہ پیس آف بورڈ میں مسلم ممالک کی شرکت کے مثبت نتائج نکلیں گے، بھارت سے جنگ کے بعد پاکستان کی پذیرائی ہوئی، پاکستان کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں وسیع تجربہ حاصل ہے، دیکھتے ہیں غزہ امن فورس کے لیے کس قسم کی شرائط کا مسودہ تیار کیا جاتا ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہے، نئی دہلی اور کابل پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ایک پیج پر ہیں، کابل دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں جب کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، اگر کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا تو نئی کارروائیوں سے ہچکچائیں گے نہیں، اسلام آباد دھماکے سمیت کئی حملوں کے پیچھے بیرونی ہاتھ کار فرما ہے۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں کلٹ ہے، سیاسی سوچ و سیاسی رفاقت کا کوئ تصور نہیں، اس وقت پی ٹی آئی کے اندر آدھا درجن گروپ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوائے عمران خان کے ہر رہنما کو گالیاں پڑچکی ہیں اور پڑتی رہیں گی، عمران خان کے مفادات کی قربان گاہ پہ سب بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، عمران خان کی ہمشیرہ اور پارٹی کی لیڈرشپ میں شدید مفادات کی جنگ ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنی وزارت اعلیٰ بچانے کے لیے رہائی فورس لانچ کرکے اپنی وفاداری کا یقین دلارہا ہے، وکلا کے ایک گروہ کا سارا سیاسی وجود عمران خان کی مرہوں منت ہے، وہ کیمرے پر آکر مارکیٹ ویلیو بنا رہے ہیں، سب چاہتے ہیں عمران خان اندر رہے تا کہ انکی دکانیں کھلی رہیں۔



Source link

Post Comment