امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنماؤں کو مذاکرات کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، انھوں نے بیان میں کہا کہ وہ امریکا سے معاہدے کے لیے ’بھیک‘ مانگ رہے ہیں۔ ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے نیٹو ممالک پر بھی عدم تعاون کا الزام لگایا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں ایرانی مذاکرات کاروں کو ’عجیب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے منتیں کر رہے ہیں۔
صدرٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران عسکری طور پر مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس واپسی کا کوئی امکان نہیں، اس کے باوجود وہ عوامی سطح پر صرف امریکی تجویز کا جائزہ لینے کی بات کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو جلد سنجیدہ ہونا ہوگا، ورنہ صورت حال ایسی نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی اور نتائج خوشگوار نہیں ہوں گے۔
صدرٹرمپ نے اپنے ایک اور بیان میں نیٹو ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے ایران کے معاملے میں بالکل کچھ نہیں کیا اور امریکا کو نیٹو سے کسی مدد کی ضرورت نہیں، اس اہم وقت کو یاد رکھا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی امور کے ماہرسید محمد مروندی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے اسے ’جعلی خبر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مذاکرات جاری ہیں اور ایران بے بس ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سید محمد مروندی کے مطابق ایران کسی قسم کے مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور اگر ٹرمپ انتظامیہ نے حملہ کیا تو عالمی معیشت کو فوری اور سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت حال کو بعض حلقے ایک بڑی جنگ کے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جنگ صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ختم ہوگی۔ ایرانی حکام نے اپنی پانچ اہم شرائط بھی سامنے رکھیں، جس میں جنگ کے دوران ہوئے نقصانات کی تلافی بھی شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے مؤقف میں اتنا بڑا فرق موجود ہے کہ فوری پیش رفت کے امکانات محدود ہیں اور اس تعطل کی وجہ سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔