ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے مطمئن نہیں ہوں: ٹرمپ – World
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات سے مطمئن نہیں ہیں اور کہا کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ٹیکساس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران یورینیم کی محدود سطح پر افزودگی کا خواہاں ہے، تاہم امریکا اس کی بھی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بیس فیصد یورینیم افزودگی چاہتا ہے لیکن ہم اتنا بھی نہیں چاہتے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، اس لیے اسے یورینیم افزودگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال ان کے لیے قابلِ قبول نہیں، اگرچہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران مذاکرات میں مطلوبہ حد تک پیش رفت نہیں کر رہا جو افسوسناک ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، اور اسی اصول کے تحت بات چیت جاری رکھی جائے گی۔
خیال رہے کہ جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور بھی بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگیا تھا، جس کے بعد امریکی صدر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا دکھائی دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ طاقت کے استعمال سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کی تردید کی گئی ہے اور تہران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں اس پر عائد امریکی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام سے بات چیت کی تھی۔ اگرچہ کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں ہوا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسیدی کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی چینل سی بی ایس سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ ہماری پہنچ میں ہے، اگر ہم سفارت کاری کو مطلوبہ گنجائش فراہم کریں۔ ان کے مطابق ایران اصولی طور پر اس بات سے متفق ہوا ہے کہ وہ کبھی ایسا جوہری مواد حاصل نہیں کرے گا جسے ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکے، اور اگر اس نکتے کو بنیاد بنا کر آگے بڑھا جائے تو معاہدہ ممکن ہے۔
Post Comment