ایپسٹین اسٹیٹ کا متاثرین کو لاکھوں ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا فیصلہ – World
بدنامِ زمانہ امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی جائیداد کے منتظمین نے متاثرین کی جانب سے دائر اجتماعی مقدمے کو نمٹانے کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
بلوم برگ کے مطابق یہ پیش رفت نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی عدالتی دستاویزات کے ذریعے سامنے آئی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ معاہدہ ان الزامات سے متعلق ہے جو 1990 کی دہائی کے وسط سے لے کر اگست 2019 تک کے عرصے پر محیط ہیں، جب ایپسٹین جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔
متاثرین کے وکلاء کا مؤقف تھا کہ ایپسٹین کے دو قریبی مشیروں نے مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی جنسی اسمگلنگ میں سہولت کاری کی اور اس نظام کو چلانے میں کردار ادا کیا۔
متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے عدالت میں تصفیے کا باضابطہ اعلان کیا۔ معاہدے کے تحت اگر 40 سے کم افراد اہلیت کے معیار پر پورا اتریں تو 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کیے جائیں گے، جبکہ 40 سے زائد متاثرین کی صورت میں رقم بڑھ کر 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہو جائے گی۔ اس تصفیے کو مؤثر ہونے کے لیے وفاقی جج کی منظوری درکار ہوگی۔
مقدمے میں ایپسٹین کے ذاتی وکیل ڈیرن انڈیک اور ان کے اکاؤنٹنٹرچرڈ کاہن کو نامزد کیا گیا تھا۔ درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ دونوں افراد نے مالی فائدے کے لیے ایپسٹین کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں میں مدد فراہم کی۔ تاہم معاہدے میں کسی بھی فریق کی جانب سے غلط کاری کا اعتراف شامل نہیں ہے اور ادائیگی ایپسٹین کی جائیداد میں موجود اثاثوں سے کی جائے گی، نہ کہ ان افراد کی ذاتی جیب سے۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2019 میں وفاقی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، مگر مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل ہی وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے۔ حکام نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اس حوالے سے مختلف حلقوں میں سوالات اور شکوک و شبہات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ایپسٹین کی موت کے بعد بھی قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل کو 2021 میں کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ میں مدد دینے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ حالیہ تصفیہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد متاثرین کے دعوؤں کا ازالہ کرنا ہے۔
تحقیقات کے دوران کئی بااثر شخصیات کے نام بھی منظرِ عام پر آئے تھے، جن میں برطانوی شاہی خاندان کے رکن پرنس اینڈریو بھی شامل تھے۔ انہوں نے بھی ایک متاثرہ خاتون کے ساتھ عدالت سے باہر تصفیہ کیا تھا، جس کے بعد وہ شاہی ذمہ داریوں سے الگ ہو گئے تھے۔
ایپسٹین کی وفات کے بعد ان کی جائیداد کی مالیت کروڑوں ڈالر لگائی گئی تھی۔ عدالتوں کی کوشش ہے کہ اسی جائیداد سے متاثرہ خواتین کو مالی ہرجانہ ادا کیا جائے تاکہ انہیں کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تازہ تصفیہ اسی قانونی عمل کا حصہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ عدالت کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔
Post Comment