براؤن یونیورسٹی فائرنگ کا مشتبہ ملزم مردہ حالت میں برآمد – World



امریکا کی معروف تعلیمی ادارے براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث مشتبہ حملہ آور مردہ حالت میں مل گیا ہے۔ امریکی اٹارنی کے مطابق حکام اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہی شخص دو دن بعد میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ایک پروفیسر کے قتل میں بھی ملوث تھا یا نہیں۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی اٹارنی لیہ فولی کے دفتر کی ترجمان کرسٹینا اسٹرلنگ نے تصدیق کی ہے کہ براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کا مشتبہ ملزم ہلاک ہو چکا ہے۔ محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ شبہ ہے ملزم نے خودکشی کی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

حکام نے تاحال مشتبہ شخص کی شناخت یا اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ تفتیش کار کیوں سمجھتے ہیں کہ براؤن یونیورسٹی فائرنگ اور ایم آئی ٹی پروفیسر کے قتل کے واقعات آپس میں جڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق میساچوسٹس میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک شخص کے خلاف الزامات کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔

پیر کے روز ایم آئی ٹی کے پروفیسر نونو لوئریرو، جن کی عمر 47 برس تھی، میساچوسٹس کے علاقے بروکلائن میں اپنے گھر میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ مقام براؤن یونیورسٹی سے تقریباً 80 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ نونو لوئریرو ایم آئی ٹی میں نیوکلیئر سائنس، انجینئرنگ، فزکس اور پلازما سائنس و فیوژن سینٹر سے وابستہ تھے۔

امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 9 شدید زخمی

ایف بی آئی کے ایک اہلکار نے اس ہفتے کہا تھا کہ حکام کے نزدیک براؤن یونیورسٹی فائرنگ اور ایم آئی ٹی پروفیسر کے قتل کے درمیان کوئی واضح تعلق ثابت نہیں ہوا۔

پروویڈنس پولیس کے مطابق براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے بعد مشتبہ شخص پیدل ہی قریبی گلیوں میں فرار ہو گیا تھا۔ تفتیش کے دوران عمارت اور اطراف میں نگرانی کے کیمروں کی کمی کے باعث رہائشی علاقوں کے سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج پر انحصار کیا گیا۔

پولیس نے ایک نقاب پوش شخص کی تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کیں، جسے عینی شاہدین کے بیانات کی بنیاد پر حملہ آور قرار دیا گیا۔ فوٹیج میں مشتبہ شخص حملے سے پہلے اور بعد میں قریبی علاقے میں گھومتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب پولیس گاڑیاں موقع پر پہنچ رہی تھیں۔

پروویڈنس پولیس چیف آسکر پیریز کا کہنا تھا کہ “وہ کہیں بھی ہو سکتا ہے”، اور ابتدائی طور پر پولیس کو نہ تو ملزم کی شناخت معلوم تھی اور نہ ہی اس کے ممکنہ محرکات۔

امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 9 شدید زخمی

پولیس نے ایک اور نامعلوم شخص کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جو واقعے کے وقت علاقے میں دیکھا گیا تھا، اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ گواہ ہو سکتا ہے جس کے پاس اہم معلومات ہوں۔

واضح رہے کہ فائرنگ کے ایک دن بعد پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں تفتیش کے بعد اسے رہا کر دیا گیا کیونکہ اس کا واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

امریکی اٹارنی لیہ فولی کے دفتر کی ترجمان کرسٹینا اسٹرلنگ نے تصدیق کی ہے کہ براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کا مشتبہ ملزم ہلاک ہو چکا ہے۔ محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ شبہ ہے ملزم نے خودکشی کی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکا میں 14 سالہ طالبعلم کی اسکول میں طلبہ پر فائرنگ، 4 افراد ہلاک

حکام نے تاحال مشتبہ شخص کی شناخت یا اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ تفتیش کار کیوں سمجھتے ہیں کہ براؤن یونیورسٹی فائرنگ اور ایم آئی ٹی پروفیسر کے قتل کے واقعات آپس میں جڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق میساچوسٹس میں وفاقی پراسیکیوٹرز نے ایک شخص کے خلاف الزامات کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے براؤن یونیورسٹی کی ایک کلاس روم عمارت میں ہونے والی فائرنگ میں دو طلبہ ہلاک جبکہ کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے رہوڈ آئی لینڈ کے شہر پروویڈنس میں طلبہ اور شہریوں میں بے چینی پائی جا رہی تھی۔ شہر کے میئر بریٹ اسملی کے مطابق عوام گرفتاری کے منتظر تھے۔

پولیس نے ایک اور نامعلوم شخص کی تصاویر بھی جاری کی ہیں، جو واقعے کے وقت علاقے میں دیکھا گیا تھا، اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ گواہ ہو سکتا ہے جس کے پاس اہم معلومات ہوں۔

واضح رہے کہ فائرنگ کے ایک دن بعد پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں تفتیش کے بعد اسے رہا کر دیا گیا کیونکہ اس کا واقعے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *