اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے انکشاف کیا ہے کہ ڈھاکا میں سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے دوران بھارتی وفد نے انہیں جنازے میں جانے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے تمام دباؤ کے باوجود بنگالی عوام کے درمیان کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے ڈھاکا گئے تھے جہاں مالدیپ، نیپال اور بھوٹان کے وفود کو ایک بس میں جنازہ گاہ لایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بس کی فرنٹ سیٹوں پر بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور بھارتی ہائی کمشنر بیٹھے تھے۔ جے شنکر نے بس کے شیشوں پر پردے لگوا دیے، جبکہ وہ خود اپنے ہائی کمشنر کے ساتھ پچھلی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
ایاز صادق نے بتایا کہ انہوں نے بس کے پردے سائیڈ پر کر دیے اور بنگالی عوام کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے رہے۔
اسپیکر کے مطابق جب بس جنازہ گاہ پہنچی تو بھارتی ہائی کمشنر دروازے پر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی وہ نیچے اترنے لگے تو بھارتی حکام نے کہا کہ آپ نہ جائیں، آپ کو خطرہ ہے۔
ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے واضح جواب دیا کہ وہ جنازے میں شرکت کے لیے آئے ہیں اور دروازہ کھولا جائے۔
ان کے مطابق انہوں نے غصے اور زور سے دروازہ کھولنے کا کہا، جس کے بعد دروازہ کھولا گیا اور وہ نیپال اور مالدیپ کے وفود کے ساتھ نیچے اتر گئے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ بنگالی عوام کے درمیان کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے، جبکہ بھارتی وزیر خارجہ اور بھارتی ہائی کمشنر بس میں ہی بیٹھے رہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ بھارتی وفد نے جنازہ پڑھنا ہی نہیں تھا اور بھارتی ہائی کمشنر کی پوری کوشش تھی کہ وہ بھی نمازِ جنازہ ادا نہ کریں۔ ان کے مطابق بھارتی وفد پوری تیاری اور منصوبہ بندی کے تحت وہاں آیا تھا۔
سردار ایاز صادق نے کہا کہ انہوں نے تمام دباؤ کے باوجود جنازے میں شرکت کی اور بنگالی عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔