بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدہ: مقامی کار میکرز کو خدشات، یورپ کے لیے ریلیف – World



بھارت اور یورپی یونین نے ایک طویل انتظار کے بعد بڑے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا اعلان بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کو کیا۔

تقریباً دو دہائیوں کے متواتر مذاکرات کے بعد ہونے والا یہ آزاد تجارتی معاہدہ بھارت کی وسیع اور محفوظ تجارتی مارکیٹ کو 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارت کا راستہ فراہم کرے گا۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا کی جانب سے بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ بھارت کا معاہدہ امریکی اثر و رسوخ سے بچنے کی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی حکومت نے بھارت سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 50 فیصد محصول عائد کیا ہوا ہے، بھارت امریکا تجارتی معاہدہ بھی گزشتہ سال مواصلاتی مسائل کی وجہ سے ناکام ہوگیا تھا۔

یورپی یونین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں کے درمیان مالی سال 2024–25 میں دو طرفہ تجارتی حجم 136 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو گزشتہ دس سال میں تقریباً دوگنا ہوا ہے۔

نریندر مودی نے نئے معاہدے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ ”کل، یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایک بڑا معاہدہ طے پایا۔ دنیا بھر کے لوگ اسے ’تمام معاہدوں کی ماں‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاہدہ بھارت کے 1.4 ارب عوام اور یورپ میں لاکھوں افراد کو بڑے مواقع فراہم کرے گا۔“

بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی معیشت کے 25 فیصد اور دنیا کے ایک تہائی تجارتی حجم کا احاطہ کرتا ہے۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے کہ وہ بھارت میں سرمایہ کاری کریں اور کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ نریندر مودی اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لین جلد ہی نئی دہلی میں ہونے والے بھارت–یورپی یونین سربراہی اجلاس میں اس معاہدے کی تفصیلات کا اعلان کریں گی۔

بھارتی حکام کے مطابق، معاہدے کی باضابطہ منظوری قانونی جانچ پڑتال کے بعد پانچ سے چھ ماہ میں ہوگی، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ ایک سال کے اندر عملی طور پر نافذ کیا جائے گا۔

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت 2007 میں شروع ہوئی تھی، لیکن 2013 میں مارکیٹ تک رسائی اور ضابطہ جاتی مطالبات پر اختلافات کے باعث مذاکرات رک گئے تھے۔ جولائی 2022 میں یہ مذاکرات دوبارہ باقاعدہ طور پر شروع کیے گئے۔

تجارتی معاہدے میں سب سے بڑے مسائل میں بھارت کی آٹوموبائل مارکیٹ، زرعی مصنوعات اور کاربن سے منسلک محصولات شامل تھے۔

بھارت میں یورپی کاروں پر عائد درآمدی محصولات میں بڑی کمی کے امکان پر بھارتی کار ساز کمپنیوں کے حصص میں منگل کو تقریباً پانچ فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق، بھارت یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت یورپی کاروں پر محصولات 110 فیصد سے گھٹا کر 40 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو مقامی صنعت کے لیے نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، بھارت حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان گاڑیوں پر ٹیرف کم کیا جائے گا، جن کی درآمدی قیمت 15 ہزار یورو (تقریباً 17 ہزار 739 ڈالر) سے زیادہ ہو۔

بھارت کے اس اقدام سے یورپی کار ساز کمپنیوں کو مدد ملے گی جو پہلے ہی امریکی محصولات اور چین میں قیمتوں کی جنگ سے دباؤ میں ہیں۔

بھارت دنیا کی تیسری بڑی کار انڈسٹری ہے، لیکن یہاں کی 4.4 ملین گاڑیوں کی سالانہ مارکیٹ ہمیشہ سے بہت محفوظ رہی ہے، جہاں درآمدی کاروں پر موجودہ محصولات 70 فیصد سے 110 فیصد تک ہیں۔

یہ فیصلہ بھارت کی مقامی صنعت کو چیلنج کے ساتھ ساتھ یورپی کمپنیوں کے لیے تجارتی مواقع بھی پیدا کرے گا اور ملکی مارکیٹ میں سخت مسابقت کی فضا قائم کرے گا۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *