ایران نے مذاکرات کی خبروں کے درمیان امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا جزائر پر حملے نہ روکے گئے یا کسی نئی جارحیت کی کوشش ہوئی تو وہ آبنائے باب المندب کو بند کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے نیا محاذ کھولا جاسکتا ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
تسنیم نیوز کے مطابق فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ایران مسلسل دشمن کی تیاریوں اور پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی میں بھی اسرائیلی جارحیت کا سخت جواب دے چکا ہے اور اگر دشمن نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو اسے ایک نئی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے، اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ برسوں میں یمن کی خانہ جنگی اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے باعث اس گزرگاہ کی سیکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ یمن میں موجود ایران نواز حوثی گروپ ماضی میں اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور عندیہ دے چکا ہے کہ ایران کے اشارے پر وہ اس راستے کو بند بھی کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے صوبہ بوشہر میں واقع ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
اس صورت حال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ان حملوں سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں، اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے گریز کی ہدایت بھی کی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ جاری رہنے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گی، جبکہ باب المندب کی بندش سے عالمی سطح پر جاری معاشی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ختم ہوگی۔ ایرانی حکام نے اپنی پانچ اہم شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں، جس میں جنگ کے دوران ہوئے نقصانات کی تلافی بھی شامل ہے۔