جنیوا: امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور آج ہوگا – World
سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں آج امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا تیسرا دور ہونے جا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ ان مذاکرات کی ثالثی عمان کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اس اہم ملاقات میں شریک ہوں گے جہاں ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور نگرانی کے نظام جیسے حساس معاملات زیر بحث آئیں گے۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ ان کے ہمراہ قانونی امور کے اعلیٰ عہدیدار اور جوہری ماہرین بھی شامل ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی ٹیم میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور امریکی نمائندہ جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی بھی مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ نگرانی اور تصدیقی طریقہ کار پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
مذاکرات سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن وہ اپنے پرامن جوہری استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں اور اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ایران دباؤ میں آ کر ہتھیار ڈال دے گا تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو وہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جس کی لپیٹ میں پورا خطہ آ سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ماضی کے ناکام تجربات کو دہرانے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ مختلف نہیں ہوگا، اس لیے مسئلے کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔
امریکی مؤقف بھی سخت اور محتاط دکھائی دیتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے سنگین خطرہ رہا ہے اور وہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق بیلسٹک میزائلوں پر بحث نہ کرنے پر ایرانی اصرار ایک بڑا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران یورینیم افزودگی کی کوشش ضرور کر رہا ہے، تاہم ان کے بقول اس وقت ایران عملی طور پر یورینیم افزودہ نہیں کر رہا۔
مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت کاری ہمیشہ ایک ممکنہ راستہ رہے گی اور امریکا اسی کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی فوجی کارروائی سے متعلق دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
انہوں نے ایک امریکی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ان کے مطابق امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام سے خطے اور دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی حکام آئندہ مذاکرات میں سفارتی حل کو سنجیدگی سے لیں گے۔
ادھر امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ غیر معینہ مدت تک جاری رہنا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔
جنیوا میں ہونے والا یہ تیسرا دور اس لحاظ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے بیانات میں سختی کے باوجود سفارتکاری کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات کسی عملی پیش رفت کا باعث بنتے ہیں یا اختلافات بدستور برقرار رہتے ہیں۔ عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک پائیدار حل کی طرف پیش رفت کا سبب بنے گی۔
Post Comment