جے ایف 17 تھنڈر کن کن ممالک کے پاس ہے اور کون خواہش مند ہے؟ – Pakistan



Ads

پاکستان اور چین کے ’جوائنٹ وینچر‘ جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری میں عالمی سطح پر دلچسپی بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ مختلف ممالک کی جانب سے اس طیارے کی خریداری یا ممکنہ معاہدوں کی خبروں کے بعد حال ہی میں عراقی فضائیہ نے بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی خریداری کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان کے دفاع کا بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران یہ طیارہ عالمی سطح پر ایک نمایاں برانڈ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے حال ہی میں عراق اور سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کی مقامی دفاعی حکام اور فضائیہ کی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایئر چیف کے دورۂ عراق کے موقع پر عراقی فضائیہ نے پاکستان ایئرفورس کی عالمی معیار کی تربیت سے استفادہ کرنے اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

سعودی عرب میں ملاقاتوں کے دوران سعودی قیادت نے بھی ملٹی ڈومین آپریشنز کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

اسی تناظر میں بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے بھی گزشتہ ہفتے دورۂ پاکستان کے موقع پر جے ایف 17 بلاک تھری لڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی۔ تاہم بنگلہ دیش نے تاحال کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔

پاکستان فضائیہ کے زیرِاستعمال جے ایف 17 تھنڈر نے اس وقت دوبارہ مقبولیت حاصل کی جب گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روزہ مختصر جھڑپ میں اس طیارے نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق جے ایف 17 طیاروں کو دیگر ممالک کے لڑاکا طیاروں پر اس وجہ سے بھی سبقت حاصل ہے کیوں کہ اِسے کئی مرتبہ کامیابی سے میدانِ جنگ میں آزمایا جاچکا ہے۔

پاک بھارت جھڑپ کے بعد اس طیارے کی عالمی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ کئی ممالک پہلے ہی اسے اپنے دفاعی بیڑوں میں شامل کر چکے ہیں۔ اس وقت جے ایف 17 تھنڈر آذربائیجان، نائیجریا اور میانمار کی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قرض کے بدلے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی فراہمی پر مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ترجمان دفترِ خارجہ نے اس معاملے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی بھی دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ تکمیل کے بعد کی جائے گی‘۔

گزشتہ سال دسمبر میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ پاکستان نے لیبیا کے ساتھ چار ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا ہے، جس میں درجن سے زائد جے ایف 17 طیاروں کی فروخت شامل ہے۔ تاہم پاکستانی فوج نے لیبیا یا سعودی عرب کے ساتھ کسی حتمی معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *