حملے کی صورت میں ایران کِن امریکی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے؟ – World



Ads

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی مسلسل دھمکیوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کے روز ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے ایک بار پھر امریکی مداخلت کا عندیہ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف کسی حتمی فوجی کارروائی کا فی الحال فیصلہ نہیں کیا تاہم حملے کا امکان موجود ہے۔

سعودی عرب، قطر اور عمان نے اس صورتحال میں امریکہ کو ایران پر حملے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق اِن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں اُن پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔

ایران کی جانب سے متعدد بار واضح کیا جا چکا ہے کہ وہ مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے تاہم اگر امریکہ نے حملہ کیا تو وہ خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

ایران کے وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس کئی ’سرپرائزِز‘ موجود ہیں، کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کُن جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے منگل کو امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کے کئی اہلکاروں کی جانب سے حملے کی دھمکیوں کے ردِعمل میں دیا۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کو باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر کوئی حملہ کیا تو ان کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے ایرانی جوابی کارروائی کا ہدف ہوں گے۔ تاہم ایران نے ان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کو ایران پر حملے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی فوجی مداخلت کے خدشات کے پیشِ نظر متعدد مسلم ممالک سے اہم رابطے کیے ہیں، ان میں وہ ممالک خاص طور پر شامل ہیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ترک ہم منصب کے دوران گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ رابطہ ہوچکا ہے۔ بدھ کے روز ایرانی وزیرِ خارجہ نے اماراتی ہم منصب سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جبکہ عمانی وزیرِ خارجہ نے بھی گزشتہ ہفتے ایران کا دورہ کیا تھا۔

ایرانی حکام کے انتباہ کے بعد بدھ کے روز خبریں سامنے آئیں کہ قطر میں واقع خطے کے سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے سے امریکی عملے کے چند ارکان کو عارضی طور پر انخلا کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اس سے قبل امریکہ نے اپنے شہریوں کو بھی جلد از جلد ایران سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔

ایران پر امریکی حملے کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور کون سے ممالک متاثر ہوسکتے ہیں، اس کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ خطے میں امریکہ کے فوجی اڈے کہاں کہاں موجود ہیں۔

امریکہ دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا فوجی نیٹ ورک دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے تقریباً 80 ممالک میں 750 چھوٹے اور بڑے فوجی اڈے موجود ہیں۔ جاپان میں سب سے زائد 120 ملٹری بیسز، جرمنی میں 119 اور جنوبی کوریا میں امریکا کے 73 فوجی اڈے موجود ہیں۔‏ اِن میں سے بیشتر دوسری جنگِ عظیم کے دوران قائم کیے گئے تھے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *