خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے: ترجمان پاک فوج – Pakistan
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر ملکی سیکیورٹی صورتحال اور دیگر اہم امور پر میڈیا کو جنرل ہیڈک وارٹر راولپنڈی میں بریفنگ دے رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں اور سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف حصوں میں مؤثر کارروائیاں کیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، جس میں سیکیورٹی اداروں کے ساتھ عوام کا تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2025 میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو کسی ایک مخصوص تاریخ سے جوڑنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ایک مسلسل اور ہمہ وقت جاری عمل ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ دہشت گرد خوارج ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنۃ الہندوستان کا پاکستان یا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایسے عناصر بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف اور بیانیے کو تسلیم کیا ہے، جو ملک کے لیے ایک اہم سفارتی اور اخلاقی کامیابی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تمام فریقین کا اتفاق رائے موجود ہے، تاہم اس پر عملدرآمد میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 5 ہزار 397 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور مشکل جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے بڑی قربانیاں دیں، اور گزشتہ سال 1 ہزار 235 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں مجموعی طور پر 27 خودکش حملے ہوئے، جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے، ان خودکش حملوں میں دو حملے خواتین کی جانب سے کیے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں اور خیبرپختونخوا میں ہی دہشت گردی کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی حکمت عملی اور آپریشنز کی بدولت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر ہوئی ہیں۔
اُن کے مطابق پانچ سال پہلے صورت حال یہ تھی کہ ایک دہشت گرد کے مارے جانے پر تین شہادتیں ہوتی تھیں، جبکہ اب یہ تناسب بدل چکا ہے اور ایک شہادت کے مقابلے میں دو دہشت گرد مارے جا رہے ہیں۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھر کی مختلف دہشت گرد تنظیمیں وہاں سے آپریٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ القاعدہ، داعش، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک پر بھی پڑ رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ حالیہ معلومات کے مطابق شام سے تقریباً ڈھائی ہزار دہشت گرد افغانستان پہنچ چکے ہیں، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک اس صورتحال کے باعث دہشت گردی سے متاثر ہو رہے ہیں، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 2021 میں دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد مارے گئے۔ 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں تین وعدے کیے۔ افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ حقیقت میں اتحادی افواج کے افغانستان سے انخلا کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اتحادی افواج نے افغانستان میں 134 ارب ڈالر خرچ کیے، اس کے باوجود وہاں پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کر گیا، جو اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کر رہا ہے اور ان گروہوں کو اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کے پاس اس حوالے سے شواہد موجود ہیں اور یہ معاملہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق کہا جاتا ہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا میں مسجد پر حملہ کیا، فیلڈ مارشل نے خود پشاور کا دورہ کر کے اس مسجد کے ملبے پر کھڑے ہوکر دہشتگردی کے خلاف واجح مؤقف دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر پاکستان کے مقابلے میں کسی بھی ملک میں پانچ فیصد کے برابر بھی دہشت گردی ہو تو وہ ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھارت کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اکتوبر کے مہینے میں پاک افغان سرحد پر سنگین جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران افغانستان سے پاکستان کی سرحدی پوسٹوں پر براہ راست حملے کیے گئے، جس کے بعد پاکستان نے سرحد بند کر کے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ خوارجی دہشتگردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ان کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے افغانستان پر آپریشن سندور جیسا حملہ کیا، اب تک سندور کی کالک بھارت کے منہ سے نہیں جارہی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے دوران خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ پاکستان کی کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف اور مخصوص اہداف تک محدود رہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت نے افغانستان کو بطور پراکسی استعمال کرنے کی کوشش کی، پاکستان نے افغانستان کو پہلے ہی یہ پیغام دیا تھا کہ ایسی سرگرمیوں سے باز رہا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں افغان طالبان کو نہیں بلکہ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
لیفٹننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ ہندوستان کون ہوتا ہے کسی پاکستانی کو سزا دینے والا، پاکستان کسی بھی بیرونی طاقت کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی پاکستانی کو سزا دینے کا خود ساختہ کردار ادا کرے۔
انہوں نے وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی پاکستانی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں کہاں واقع ہیں اور تمام بڑے دہشت گرد حملوں میں افغان سرزمین کے استعمال کے شواہد موجود ہیں۔ ان حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جعفر ایکسپریس میں 21 معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا، نوشکی میں بس میں مسافروں کو شہید کیا گیا، کیڈٹ کالج وانا پر اے پی ایس طرز کا حملہ کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان سے آنے والا ہر دہشت گرد مارا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ا بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے، یہ پوری قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، اگر دہشتگردی کے ناسور کو ختم نہ کیا گیا تو کل آپ کے اسکولوں، دفاتر اور گلیوں میں دہشتگرد حملے ہو رہے ہوں گے۔
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشتگردوں کے بیانات اور گفتگو بھی چلائی اور کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے افغانستان کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا، افغان باشندوں کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے۔
خبر میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔۔۔
Post Comment