دبئی نے دنیا کی پہلی ’گولڈ اسٹریٹ‘ کی تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے جو دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں ہی قائم کی جائے گی۔
دبئی گولڈ اسٹریٹ کا منصوبہ ’اِثراء دبئی‘ کی جانب سے متعارف کرایا گیا ہے۔ جو دبئی حکومت کی ملکیت میں کام کرنے والا ریئل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کا ادارہ ہے۔
ادارے کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں اور خریداروں کے لیے پُر کشش بنانے کے لیے اس گولڈ اسٹریٹ کو سونے سے تعمیر کیا جائے گا۔
اس منصوبے کا مقصد سونے کی تجارت کے لیے ایک ایسا ’ایکو سسٹم‘ بنانا ہے جہاں ریٹیل، ہول سیل اور سرمایہ کاری سب ایک ہی جگہ پر موجود ہوں تاہم اس کے ڈیزائن اور تعمیر سے متعلق تفصیلات گی فی الحال جاری نہیں کی گئی ہیں۔
گلف نیوز کے مطابق اس منصوبے کا باضابطہ اعلان ایک تقریب میں کیا گیا، جس میں دبئی کی اہم سرکاری اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں ایک ہزار سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں سونا، زیورات، عطر، کاسمیٹکس اور لائف اسٹائل مصنوعات شامل ہیں۔
گولڈ اسٹریٹ کو الگ سیاحتی مقام کا درجہ دینے کے بجائے گولڈ ڈسٹرکٹ کے مجموعی تجارتی ڈھانچے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔
دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں بین الاقوامی خریداروں اور تجارتی شراکت داروں کی سہولت کے لیے چھ ہوٹلوں میں ایک ہزار سے زائد کمروں کی سہولت موجود ہے۔ سیاحوں کے لیے اس علاقے کو پہلے ہی ’بِگ بس‘ کے روٹس میں شامل کیا جا چکا ہے تاکہ بین الاقوامی خریدار آسانی سے یہاں پہنچ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران 147 سے زائد ممالک کے سیاحوں اور تاجروں نے اس ڈسٹرکٹ کا دورہ کیا۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات بدستور دنیا کے بڑے گولڈ ٹریڈنگ مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران یو اے ای نے تقریباً 53 ارب 41 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا برآمد کیا، جس میں سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، بھارت، ہانگ کانگ اور ترکی اہم تجارتی شراکت دار رہے۔