افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ”اُوموجا“ ایک ایسا منفرد گاؤں ہے جو بظاہر عام دیہات جیسا لگتا ہے، مگر یہاں مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے ۔ یہاں ہر سڑک و گلی میں صرف خواتین ہی نظر آتی ہیں۔
ساڑھے تین دہائیاں قبل اس گاؤں کی بنیاد رکھی گئی تھی تاکہ خواتین کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جا سکے۔ یہ خواتین زیادہ تر سامبورو برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس گاؤں کی تخلیق کا مقصد خواتین کو ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا تھا، جہاں وہ اپنے حق میں فیصلے کر سکیں اور گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی، اور دیگر زیادتیوں سے آزاد ہو سکیں۔
یہاں کی رہائشی خواتین کے مطابق، ماضی میں وہ اپنے شوہروں یا خاندان کے مرد ارکان کے ہاتھوں ظلم و زیادتی کا شکار رہ چکی ہیں، لیکن اوموجا میں آ کر وہ خود کو مکمل طور پر آزاد محسوس کرتی ہیں۔
اس گاؤن کی رہائشی 26 سالہ کرسٹین ستیان اس جدوجہد کی زندہ مثال ہیں۔ وہ چار بچوں کی ماں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد سہنے کے بعد شادی ختم کر دی اب ان کے پاس واحد راستہ ’اوموجا‘ منتقل ہونا تھا۔
ستیان خاتون نے بتایا کہ ”میں ماضی میں ظلم سہتی رہی، مگر اب خود کو آزاد محسوس کرتی ہوں۔“
گاؤں کی بنیاد رکھنے والی ریبیکا لولوسولی اور دیگر 15 خواتین نے مل کر ایک ایسی کمیونٹی قائم کی جو مردوں کے غلبے سے آزاد ہو اور جہاں خواتین اپنے فیصلے خود کر سکیں۔
آج، اوموجا یعنی ”اتحاد کا گاؤں“ تقریباً 40 خاندانوں پر مشتمل ایک خود کفیل کمیونٹی ہے۔
خواتین روایتی موتیوں کے زیورات بیچ کر اپنی روزی کماتی ہیں، اور گاؤں کے قریب کیمپ سائٹ سے بھی آمدنی حاصل کرتی ہیں۔
گاؤں کی رہنمائی کرتے ہوئے لولوسولی نے کہا، ”میں اس گاؤں میں رہ کر فخر محسوس کرتی ہوں، یہاں کوئی مجھے تنگ نہیں کرتا اور میرا شوہر مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ میں اپنی زندگی بچوں کے ساتھ گزار رہی ہوں اور کم عمری کی شادی اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں مصروف ہوں۔“
اگرچہ گاؤں میں رہنا اپنی جگہ ایک کامیابی ہے، مگر زندگی کے چیلنجز ختم نہیں ہوئے۔ مقامی مرد اکثر ہمارے مویشی چُرا لیتے ہیں، لیکن خواتین ثابت قدم رہ کر ان مسائل کا مقابلہ کر رہی ہیں۔
اوموجا میں رہنے والی خواتین نہ تو دوبارہ شادی میں دلچسپی رکھتی ہیں اور نہ ہی اپنے پرانے خاندانوں کے پاس واپس جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ خواتین نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ہر صورت اپنی خودمختاری اور بچوں کی حفاظت کو ترجیح دیں گی۔
ستیان کے یہ الفاظ اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ، ”اب میں دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے سخت وقت دیکھا، وہاں میرے کوئی حقوق نہیں تھے، اور میرے بچوں کو اسکول جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ اب میں ایک آزاد ماں ہونے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔“