اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے بحرین کی قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کردیا ہے، قرار داد کے حق میں 11 ووٹ آئے جب کہ 2 ارکان غیر حاضر رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو آبنائے ہُرمز کھلوانے کے لیے بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر ووٹنگ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا۔
روس اور چین نے قرارداد کو ویٹو کردیا، جس کے نتیجے میں یہ قرارداد سیکیورٹی کونسل میں پاس ہونے میں ناکام رہی۔ اجلاس میں 15 ارکان میں سے 11 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور 2 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جب کہ فرانس، چین اور روس کی جانب سے قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی گئی۔
سلامتی کونسل کے 10 دیگر غیر مستقل اراکین میں بھی قرارداد کے مسودے پر اختلافات پائے گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق قرارداد منظور ہونے کی صورت میں رکن ملکوں کو آبنائے ہُرمُز کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اجازت مل جاتی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی برادری تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
بحرین کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ووٹنگ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد کے ذریعے کوئی نئی حقیقت نہیں بنائی جا رہی بلکہ یہ ایران کے بار بار دہرائے جانے والے جارحانہ رویّے کے سلسلے کے جواب میں ایک سنجیدہ اقدام ہے۔