امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں اے آئی کی دوڑ میں صرف ایک ہی ملک جیتے گا، امریکا یا چین۔ صدر نے واضح کیا کہ حکومت اے آئی کے لیے ایک مرکزی منظوری نظام قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی پر مؤثر نگرانی رکھی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے حوالے سے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اے آئی کے شعبے میں عالمی برتری برقرار رکھنے کے لیے جامع اور مضبوط پالیسی فریم ورک بنا رہا ہے۔۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے حوالے سے کہا کہ وہاں کی صورتحال تیزی سے زمینی کارروائی تک پہنچنے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔
ان کے مطابق ‘وینزویلا سے ہزاروں کی تعداد میں قاتل امریکا آئے‘، تاہم سمندر کے راستے منشیات کی اسمگلنگ میں 92 فیصد کمی آ چکی ہے۔
روس اور یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تنازعے میں ’ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکا یوکرین کی سکیورٹی میں مدد جاری رکھے گا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ امریکا تیسری عالمی جنگ نہیں چاہتا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور امریکا عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔