امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی پر انہوں نے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور ایران کے جوہری پروگرام کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیانات میں کہا ہے کہ اگرچہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق ہوا، تاہم سب سے اہم مسئلے یعنی جوہری پروگرام پر کوئی اتفاق پیدا نہیں ہوسکا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے وعدے سے پیچھے ہٹ گیا اور سمندر میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا جواز دے کر عالمی تجارت کو یرغمال بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی جہاز رانی کمپنی ایسے خطرات مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی اور جو جہاز ایران کو ٹول ادا کرے گا اسے محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی جانب سے عائد کیے گئے مبینہ غیر قانونی ٹول ٹیکس اور بحری راستوں پر پیدا کردہ خطرات کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ایسے تمام جہازوں کو روک کر تلاشی لے جو ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی امریکا کا ساتھ دیں گے اور ایران کو اس مبینہ غیر قانونی اقدام سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
امریکی صدر نے دھمکی دی کہ اگر ایران کی جانب سے امریکی یا کسی دوسرے ملک کے جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔
دوسرے بیان میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے انہیں اسلام آباد مذاکرات پر بریفنگ دی۔
امریکی صدر نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکا مذاکرات کے انعقاد پر پاکستانی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے ایک بڑی جنگ کو روکا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو غیر معمولی رہنما قرار دیا۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران امریکی نمائندے اور ایرانی وفد کے درمیان دوستانہ ماحول رہا، تاہم ایرانی حکام جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے جس کے باعث یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور قیادت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، جو محض ان کے جوہری عزائم کا نتیجہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکی افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور مناسب وقت آنے پر باقی ماندہ ایران کا بھی خاتمہ کر دیں گی۔