امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) جنریٹڈ تصویر شیئر کیے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے، جس میں انہیں حضرت عیسیٰ مسیح جیسے انداز میں ایک مریض کو شفا دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ اقدام پوپ لیو XIV پر تنقید کے بعد سامنے آیا، جس پر مذہبی اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔
دو روز قبل امریکی ڈاکٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغی معائنے کے لیے خط لکھا تو آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں 2 پوسٹوں نے ان کی ذہنی حالت پر مزید سوالات اٹھادیے۔
صدر ٹرمپ نے پہلے تو عیسائیوں کے مذہبی پییشوا پوپ لیو پر جنگ کے خلاف بیانات دینے پر شدید تنقید اور توہین کی تو دوسری جانب انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصویر شیئر کی، جس میں انہیں عیسیٰ مسیح جیسے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
تصویر میں ٹرمپ کو ایک اسپتال کے بستر پر موجود مریض پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب کہ اردگرد نرسیں، فوجی اہلکار اور دیگر افراد موجود ہیں۔ پس منظر میں امریکی پرچم، عقاب اور جنگی طیارے بھی نظر آتے ہیں۔
تصویر پر سابق کانگریس رکن ٹیلر گرین نے کہا کہ یہ توہین مذہب سے بھی زیادہ ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان پوپ لیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم آپ کی توہین کی شدید مذمت کرتی ہے، حضرت عیسی امن اور بھائی چارے کے پیغمبر تھے۔
بعدازاں متنازع تصویر پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے ہی حلقوں سے کڑی تنقید ہونے کے بعد امریکی صدر نے سوشل میڈیا سے تصویر ہٹادی۔
یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں پوپ لیو XIV پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں “کمزور” اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ناکام قرار دیا تھا۔
اس تصویر کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور متعدد صارفین نے اسے مذہبی جذبات کی توہین اور “بلاسفیمی” سے تعبیر کیا ہے۔ کچھ مذہبی حلقوں اور سیاسی شخصیات نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنازع نے امریکا اور ویٹیکن کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔