وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری منظور کرنے کے بعد ایوانِ صدر بھجوا دی ہے۔ فیلڈ مارشل ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے اور ان کی یہ ذمہ داری پانچ سال کے لیے ہوگی۔ اس تعیناتی کے بعد وہ آرمی چیف کے فرائض کے ساتھ دفاعی فورسز کی مشترکہ سربراہی بھی سنبھالیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدت ملازمت میں بھی دو سال کی توسیع کی منظوری دی ہے، جو ان کی موجودہ پانچ سالہ مدت ملازمت کے مارچ 2026 میں مکمل ہونے کے بعد نافذ العمل ہوگی۔
قبل ازیں، اسلام آباد میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی جس میں وفاقی وزیرِ قانون نے واضح کیا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا نوٹیفکیشن معمول کے طریقہ کار کے مطابق جاری ہونے کے مراحل میں ہے اور کسی بھی وقت سامنے آسکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت آرمى چیف ہی چیف آف ڈیفنس ہوں گے، اس معاملے میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں، غیرضروری بحث چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کا عمل جاری ہے اور اس پر غیر ضروری قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ کچھ ٹی وی چینلز نے قبل از وقت ایک غلط نوٹیفکیشن نشر کر دیا تھا جس کی بعد ازاں تصحیح کی گئی اور اداروں نے باضابطہ معذرت بھی کی۔
مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزرا نے واضح کیا کہ جیل میں بانی تحریک انصاف سے ملاقاتوں کا فیصلہ صوبائی حکومت کرتی ہے اور جیل مینول کے مطابق ہفتے میں صرف ایک ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔ قیدی کو سیاسی گفتگو یا سیاسی ملاقاتوں کی اجازت نہیں اور ملاقاتوں کی تفصیلات پبلک کرنا بھی قواعد کے خلاف ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت تحلیل ہوچکی ہے اور کچھ رہنماؤں کے بیانات ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل کے باہر کسی بھی غیرقانونی سرگرمی یا ”تماشے“ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزرا نے یہ بھی کہا کہ ملک کسی بھی صورت میں بانی کی انا کے سامنے سرینڈر نہیں کرے گا اور اڈیالہ جیل کے باہر قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔