عشرت فاطمہ 45 برس کی نشریاتی خدمات کے بعد خاموشی سے رخصت – Life & Style



پاکستان کی نشریاتی تاریخ کی ایک درخشاں آواز عشرت فاطمہ، تقریباً پینتالیس برس تک ریڈیو اور ٹیلی وژن سے وابستگی کے بعد خاموشی سے منظرِ عام سے ہٹ گئیں۔ ان کے اس فیصلے نے صحافتی اور ابلاغی حلقوں میں ایک خلا کا احساس پیدا کر دیا ہے۔

اپنے مختصر الوداعی کلمات میں عشرت فاطمہ نے اپنی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور والدین کی تربیت کا ثمر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ ادارے کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

عشرت فاطمہ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے محض خبر نہیں سنائی بلکہ زبان، لہجے اور تلفظ کے ذریعے نشریات کو ایک معیار عطا کیا۔ ان کی آواز دہائیوں تک قومی نشریات کی شناخت بنی رہی اور اردو زبان کی نفاست کو عوامی سطح پر فروغ ملا۔

سینئر صحافی فوزیہ کلثوم رانا نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عشرت فاطمہ کا کیریئر صرف وقت کی طوالت نہیں بلکہ ایسے لمحات، واقعات اور یادگار نشریات کا مجموعہ ہے، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سنی اور یاد رکھی گئیں۔ ان کے مطابق عشرت فاطمہ جیسی ہمہ جہت اور باوقار براڈکاسٹرز نشریاتی تاریخ میں شاذونادر ہی پیدا ہوتی ہیں۔

فوزیہ رانا نے مزید کہا کہ سفارش یا تعلقات وقتی مواقع تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر عوامی محبت، اعتماد اور احترام صرف محنت، دیانت اور مضبوط کردار سے ہی حاصل ہوتا ہے اور عشرت فاطمہ اس کی روشن مثال تھیں۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہر صحافی کے لیے سیکھنے اور فخر کا باعث رہا۔

معروف صحافی مرحوم ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے بھی عشرت فاطمہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کئی نسلوں نے پی ٹی وی پر عشرت فاطمہ کو سن کر گفتگو، تحریر اور اظہار کے سلیقے سیکھے۔ انہوں نے عشرت فاطمہ کو عاجز، منکسر المزاج اور پاکستان سے مخلص قرار دیا۔

جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ ایسے قیمتی اثاثے کو اداروں سے محض ریٹائرمنٹ پر رخصت کر دینا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق عشرت فاطمہ کو تربیتی یا رہنمائی کے کردار میں استعمال کیا جا سکتا تھا تاکہ ان کا تجربہ نئی نسل کو منتقل ہو سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فا طمہ کی آواز، لہجہ اور پیشہ ورانہ اقدار پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *