عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ممکنہ منتقلی، حکومت کے پاس کون سے آپشنز ہیں؟ – Pakistan



پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، تاہم اب وفاقی حکومت انہیں کسی اور جیل منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی نےکہا ہے کہ عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل میں منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہی۔

اختیار ولی کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر آئے روز ہونے والے احتجاج سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، اس صورتحال میں حکومت کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات پر نظرثانی کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

منگل کے روز عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر انکی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا۔ پولیس نے دھرنا ختم کرانے کے لیے رات گئے آپریشن شروع کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

پولیس نے پتھراؤ کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار اور کئی گاڑیوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق زیادہ تر گاڑیاں خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری محکموں کی ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کے اہلخانہ کو ملاقات سے روکنے پر احتجاج کیا گیا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سخت سردی میں خواتین سمیت شرکا پر واٹر کینن چلانا غیر انسانی عمل تھا اور عمران خان کو بطور قیدی اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل، جہاں عمران خان کو رکھا گیا ہے، پاکستان کی ایک اہم اور مشہور جیل ہے جو 1986 میں قائم ہوئی۔ 9 مئی کے بعد گرفتار متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو بھی اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔

اسلام آباد کے قریب اور ہائی سیکیورٹی جیل ہونے کی وجہ سے سیاسی اعتبار سے اہم قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف مختلف مواقع پر اس جیل میں قید رہے ہیں۔ صدر مملکت آصف زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی اس جیل کے قیدی رہے ہیں۔

سینٹرل جیل لاہور، جسے عام طور پر کوٹ لکھپت جیل کہا جاتا ہے، ملکی تاریخ کے کئی اہم سیاسی رہنماؤں کی قیدگاہ رہی ہے۔ مختلف ادوار میں ملک کی نامور سیاسی شخصیات کو یہاں قید رکھا گیا، جن میں کئی سابق وزرائے اعظم بھی شامل ہیں۔

یہاں قید رہنے والے رہنماؤں میں ذوالفقار بھٹو، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز، جاوید ہاشمی سمیت متعدد سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ عمران خان کو اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد مختصر مدت کے لیے کوٹ لکھپت جیل میں بھی رکھا گیا تھا۔

کراچی کی لانڈھی جیل جسے ملیر جیل بھی کہا جاتا ہے، ملک کی مشہور اور بڑی جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنی اسیری کا بڑا حصہ اسی جیل میں گزارا۔ انکی زوجہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 1986 میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں کئی ہفتوں تک لانڈھی جیل میں رکھا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کو 2020 میں منی لانڈرنگ کیس میں کراچی میں گرفتار کیا گیا تو انہیں بھی اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔ بیگم نصرت بھٹو بھی مارشل لاء دور میں اسی جیل میں قید رہیں۔ ایم کیو ایم کے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو مختلف مقدمات میں لانڈھی جیل میں رکھا جاتا رہا ہے۔

بلوچستان کے ضلع بولان کے قریب، کوئٹہ سے تقریباً 60 کلو میٹر جنوب مغرب میں واقع مچھ سینٹرل جیل پاکستان کی بدنام زمانہ جیلوں میں سے ایک ہے۔ برطانوی دور سے آج تک سیاسی رہنماؤں اور خطرناک قیدیوں کی سخت ترین سزاگاہ سمجھی جاتی ہے۔

اس جیل کی وجہ شہرت نہ صرف اس کا دور دراز مقام ہے بلکہ اسکے اندرونی سخت حالات اور سیکیورٹی بھی ہے۔ 1929 میں قائم ہونیوالی اس جیل، کو عام طور پر ‘کالا پانی’ کہا جاتا ہے۔ اس جیل میں بھی بلوچستان کے نامور سیاسی رہنماؤں نے قید کاٹی۔

ضیا دور میں نواب اکبر بگٹی کو دیگر بلوچ رہنماؤں سمیت مچھ جیل میں قید میں رکھا گیا تھا۔ اس جیل میں نواب خیر بخش مری، عطا اللہ مینگل، صادق عمرانی بھی قیدی رہ چکے ہیں۔ مچھ جیل 2015 میں ایک بار پھر اس وقت خبروں میں آئی جب ایم کیو ایم کے کارکن صولت رضا کو یہاں پھانسی دی گئی۔

پنجاب میں واقع سینٹرل جیل ساہیوال کو برطانوی دور میں ’سینٹرل جیل مانٹگمری‘ کہا جاتا تھا۔ یہ پنجاب کی سب سے پرانی اور اہم جیلوں میں سے ایک ہے۔ 1873 میں قائم ہونے والی اس جیل کو تاریخی طور پر رقبے اور زرعی اراضی کے لحاظ سے ایشیا کی بڑی جیلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ممتاز شاعر فیض احمد فیض کو 1950 کی دہائی میں راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کرکے اسی جیل میں رکھا گیا تھا۔ اسی جیل میں ’فیض احمد فیض وارڈ‘ کے نام سے ایک حصہ منسوب کیا گیا ہے جہاں ان سے متعلق کتابیں، خطوط اور دیگر یادگاریں موجود ہیں۔

اٹک جیل پنجاب کی ہی ایک اور مشہور جیل ہے جو برطانوی دور میں قائم کی گئی۔ یہاں خطرناک، طویل سزا یافتہ اور ہائی پروفائل قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

اکتوبر 1999 کی ایمرجنسی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو اٹک قلعہ میں قید کیا گیا۔ عمران خان کو اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی، بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

آصف زرداری کو 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں احتساب اور کرپشن کیسز کے سلسلے میں اٹک جیل میں رکھا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی 1999-2000 میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں اٹک جیل کے ایک علیحدہ سیل میں قید رہے۔ اسکے علاوہ بھی مختلف سیاسی رہنما اس جیل میں قید رہ چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے پرتشدد مظاہروں کے بعد گرفتار متعدد کارکنان کو پولیس پر حملوں، اقدامِ قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت سزا کے بعد اٹک جیل منتقل کیا گیا ہے۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *