ملک بھر میں برفانی طوفان: پارہ چنار اور کوئٹہ میں سردی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے – Pakistan



ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برف باری اور سردی نے زندگی مفلوج کر دی۔ پارہ چنار میں 50 سالہ برفباری اور کوئٹہ میں 30 سالہ سردی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، جب کہ مالم جبہ، کالام اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بھی ریکارڈ مقدار میں برف گری۔

ملک کے شمال مغربی اور بلوچستان کے علاقوں میں برفانی طوفان زور پکڑ گیا ہے، جس سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ پارہ چنار میں 50 سالہ برفباری کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، جہاں پندرہ انچ سے زیادہ برف گری اور رات کا درجہ حرارت منفی تیرہ تک پہنچ گیا۔

دن کے دوران پارہ منفی سات ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ وسطی اور بالائی کرم میں ڈھائی فٹ سے زائد برف پڑ چکی ہے۔

مالم جبہ میں 38 اور کالام میں 30 انچ برف گری، چترال میں 16 اور دروش میں 15 انچ برف پڑنے سے شہردب گیا۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان، مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند اور اورکزئی میں بھی زندگی مفلوج ہو گئی۔ شانگلہ میں 20 سال بعد اتنی شدید برفباری ریکارڈ کی گئی۔

پارہ چنار میں پاک فوج نے وادی تیراہ میں پھنسے ہوئے 20 شہریوں کو ریسکیو کر لیا اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، گرم کپڑے اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

کرک، گرگری اور بشی میں بھی اس سال پہلی بار برفباری ریکارڈ کی گئی، جب کہ مری میں ڈیڑھ فٹ برفباری کے بعد ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا اور پانچ ہزار گاڑیوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔ مری میں مزید گاڑیوں کے داخلے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی۔

اسی طرح کوئٹہ میں بھی سردی کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، رات کا درجہ حرارت منفی 13 اور دن میں منفی 8 ڈگری ریکارڈ ہوا۔ نلکوں اور پائپوں میں پانی جم گیا، زیارت جانے والی درجنوں گاڑیاں شاہراہ پر پھنس گئیں، تاہم پی ڈی ایم اے حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

ادھر، چمن کے گردونواح میں بھی 100 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا۔ قلات میں درجہ حرارت منفی 12 اور زیارت میں منفی 11 ریکارڈ ہوا۔

کوئٹہ کے علاوہ قلات، مستونگ، سوراب، زیارت، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی اور توبہ اچکزئی سمیت کئی وسطی اور شمالی علاقوں کو بلوچستان کے انتہائی سرد علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تیز اور سائبیرین ہواؤں کے باعث ان علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ایندھن کے متبادل اور سستے ذرائع کی کمی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

آزاد کشمیر میں بارش، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہو گیا۔ پیرچناسی میں پھنسے 12 سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔ گلگت بلتستان میں بارش و برفباری کے باعث شاہراہ قراقرم اور گلگت اسکردو روڈ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہو گئی۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *