ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے قائم کمیٹی نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم منتخب شخصیت کے نام کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا جائے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق ماہرین کی مجلس کے رکن محسن حیدری نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس کی اکثریت نے ایک ایسے امیدوار پر اتفاق کیا ہے جسے اس منصب کے لیے سب سے موزوں سمجھا گیا ہے۔
محسن حیدری خوزستان صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں شامل ارکان میں سے ایک ہیں۔
اسی حوالے سے مجلس کے ایک اور رکن محمد مہدی میرباقری نے بھی ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ ارکان کی اکثریت کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور واضح فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو ایرانی خبر ایجنسی ’فارس‘ کے ذریعے جاری کی گئی۔
تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ نئے سپریم لیڈر کے طور پر کس شخصیت کو منتخب کیا گیا ہے اور نہ ہی اس اعلان کے وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا عہدہ ملک کے سیاسی اور مذہبی نظام میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس منصب کے حامل شخص کو ریاستی امور، خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات سمیت کئی اہم اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری مجلس خبرگان یعنی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے پاس ہوتی ہے، جو مختلف مذہبی اور سیاسی شخصیات پر مشتمل ایک بااثر ادارہ ہے۔