ننھے بندر کا جذباتی سہارا ایک کھلونا کیسے بنا؟ جاپان کے چڑیا گھر نے سب کی توجہ حاصل کرلی – Trending
جاپان کے شہر اچیکاوا میں واقع اچیکاوا سٹی چڑیا گھر میں ایک ننھے جاپانی مکاک بندر ”پنچ“ کی کہانی نے لوگوں کو جذباتی کر دیا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ننھے جاپانی بندر ”پنچ“ کی، جسے زندگی کے آغاز میں ہی ایک بہت بڑے صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔
پیدائش کے فوراً بعد اس کی ماں نے اسے چھوڑ دیا، اور وہ اکیلا اور بے سہارا رہ گیا۔ لیکن قسمت نے اس کے لیے ایک غیر معمولی دوست کا انتظام کر رکھا تھا، ایک نرم کھلونا اورنگوٹان، جو آج اس کی زندگی کا سب سے اہم سہارا بن چکا ہے۔
دنیا میں تقریباً ہر ننھے جانور کے لیے ماں کی موجودگی زندگی کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں صرف بچے کو جنم ہی نہیں دیتی بلکہ اس کی پرورش، حفاظت اور تربیت بھی کرتی ہے۔ زندگی کے ابتدائی دنوں میں بچہ مکمل طور پر ماں پر انحصار کرتا ہے۔
ماں ننھے جانور دودھ پلا کر یا غذا کا انتظام کر کے ننھے بچے کو جسمانی طاقت حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ جب بچہ ماں سے لپٹتا ہے یا اس کے ساتھ چلتا ہے تو اس کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور اس کا جسم قدرتی طور پر نشوونما پاتا ہے۔ یہ عمل بچے کو مستقبل میں خود مختار بننے کے قابل بناتا ہے۔
اس کے علاوہ ماں اپنے بچے کو زندگی گزارنے کے طریقے بھی سکھاتی ہے۔ وہ اسے خوراک تلاش کرنا، خطرات سے بچنا اور اپنی نسل کے دوسرے جانوروں کے ساتھ رہنا سکھاتی ہے۔ یہ تربیت بچے کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے۔
ماں بچے کو ذہنی سکون اور تحفظ کا احساس بھی دیتی ہے، اور وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اگر ماں موجود نہ ہو تو بچہ اکثر تناؤ، خوف اور بے چینی کا شکار ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جاپان کے اچیکاوا سٹی چڑیا گھر میں ننھا جاپانی مکاک بندر ”پنچ“ اپنی ماں کے بغیر رہ گیا تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا کر رہا تھا، پنچ کو کسی ایسے سہارے کی ضرورت تھی جسے وہ پکڑ سکے اور جس سے اسے تحفظ کا احساس ہو۔
اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے چڑیا گھر کے عملے نے اسے ایک نرم کھلونا دیا۔ اور احساس کی اس دنیا میں یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور سیکڑوں لوگ ننھے پنچ کو دیکھنے کے لیے چڑیا گھرکا رخ کرتے نظر آئے۔
اس ننھے پنچ کی کہانی برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی شائع کی ہے جس کے مطابق پنچ کی پیدائش جولائی 2025 میں ہوئی، مگر پیدائش کے فوراً بعد اس کی ماں نے اسے چھوڑ دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک ممکنہ وجہ اُس وقت پڑنے والی شدید گرمی تھی۔
عام طور پر جاپانی مکاک کے بچے اپنی ماں سے مسلسل لپٹے رہتے ہیں کیونکہ یہ ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ماں سے علیحدگی ایک بچے کے لیے انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔
اچیکاوا سٹی چڑیا گھر کے رکھوالے کوسوکے شیکانو نے فوری طور پر پنچ کی جان بچانے کے لیے کچھ اقدامات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں انہوں نے تولیے اور مختلف کھلونے استعمال کیے تاکہ پنچ کو سہارا مل سکے، مگر وہ زیادہ کامیاب نہ ہوئے۔ آخرکار انہوں نے سویڈن کی معروف کمپنی کا بنایا ہوا ایک نارنجی رنگ کا نرم ’اورنگوٹان‘ کھلونا دیا۔
اورنگوٹان ایک بڑا درختوں پر رہنے والا بندر نما جانور ہے جو دنیا کے ذہین ترین جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر انڈونیشیا اور ملائیشیا کے بارشی جنگلات میں پایا جاتا ہے۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق اس کھلونے کے لمبے بال اور بازو ایسے تھے جنہیں پنچ آسانی سے پکڑ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ اس کی شکل بھی بندر سے ملتی جلتی تھی، جس سے امید تھی کہ یہ پنچ کو دوسرے بندروں کے ساتھ مستقبل میں گھلنے ملنے میں مدد دے گا، اسی لیے اس کھلونے کا انتخاب کیا گیا۔
یہ اقدام کامیاب رہا اور یہ کھلونا جلد ہی پنچ کی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن گیا۔ اب وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے، چاہے وہ چل رہا ہو یا آرام کر رہا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کھلونا اس کے اپنے جسم سے بھی بڑا ہے، مگر پھر بھی وہ اسے چھوڑتا نہیں۔
یہ کھلونا پنچ کے لیے ماں کا مکمل متبادل تو نہیں بن سکا، لیکن اس نے اسے کافی حد تک سکون دیا۔ پنچ اس کھلونے سے لپٹ کر خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور اپنی تنہائی کم محسوس کرتا ہے۔
جب پنچ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تو وہ تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ بہت سے لوگ اسے دیکھنے کے لیے چڑیا گھر آنے لگے۔ مثال کے طور پر، میو ایگاراشی نامی ایک 26 سالہ نرس نے رائٹرز کو بتایا کہ پنچ کی کہانی نے اسے بہت متاثر کیا اور اسی وجہ سے وہ خاص طور پر اسے دیکھنے آئی۔
چڑیا گھر کے عملے کے مطابق پنچ اب آہستہ آہستہ دوسرے بندروں کے ساتھ میل جول بڑھا رہا ہے۔ اگرچہ اسے کچھ مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اس نے اپنی ماں سے ابتدائی سماجی رویے نہیں سیکھے، لیکن وہ مسلسل سیکھ رہا ہے اور بہتر ہو رہا ہے۔ کوسوکے شیکانو کو امید ہے کہ وقت کے ساتھ پنچ ایک مضبوط اور خود مختار بندر بن جائے گا۔
Post Comment