پابندیوں کا شکار وینزویلا کی مچاڈو اپنا نوبیل امن انعام لینے ناروے کیسے پہنچیں؟ – World



جلاوطنی کے بعد پہلی بار ناروے میں عوام کے سامنے آنے والی وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے اوسلو میں اپنے حامیوں کو حیران کر دیا، جہاں وہ تقریباً ایک سال روپوش رہنے کے بعد اچانک نمودار ہوئیں۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب، تقریباً ڈھائی بجے، مچاڈو نے اوسلو کے تاریخی گرانڈ ہوٹل کی بالکونی پر آکر ہجوم کو ہاتھ ہلایا۔ قومی نغمہ گانے اور ’’آزادی‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے درجنوں افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ کچھ ہی دیر بعد 58 سالہ کورینا مچاڈو نیچے سڑک پر آئیں اور رکاوٹیں عبور کر کے اپنے جذباتی حامیوں سے گلے ملیں۔

رائٹرز کے مطابق مچاڈو نے وینزویلا میں دس سالہ سفری پابندی کے باوجود خفیہ طور پر ملک چھوڑا اور ایک سال سے زیادہ عرصہ چھپ کر رہنے کے بعد اوسلو آئیں۔
نوبل کمیٹی کے سربراہ جوئرگن واٹنے فریڈنس نے کہا، ”میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ماریا کورینا مچاڈو اوسلو پہنچ گئی ہیں۔ وہ ابھی اپنے اہلِ خانہ سے ملنے جارہی ہیں، ہم سب کل ملاقات کریں گے۔“

ان کی بیٹی آنا کورینا سوسا مچاڈو نے ان کی جانب سے نوبل انعام وصول کیا اور مچاڈو کا پیغام پڑھا، جس میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لیے آزادی کے لیے لڑنا ضروری ہے۔

مچاڈو نے کہا، ”یہ انعام نہ صرف میرے ملک بلکہ دنیا کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ امن کے لیے جمہوریت لازمی ہے۔ وینزویلا کی لمبی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جمہوریت کے لیے ہر دن آزادی کے لیے لڑنا ضروری ہے۔“

’ماریا کورینا نوبیل انعام لینے گئیں تو مفرور قرار دیا جائے گا‘ وینزویلا حکومت

مچاڈو نے کہا، ”آزادی ایک انتخاب ہے جو ہر دن دہرایا جانا چاہیے، اور جس کا دارومدار ہماری ہمت اور قربانی پر ہے۔ وینزویلا کی جدوجہد صرف ان کے ملک تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی حقوق اور آزادی کے لیے عالمی مثال ہے۔“

2024 میں مچاڈو کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا گیا، حالانکہ انہوں نے اپوزیشن کی پرائمری میں واضح برتری حاصل کی تھی۔ اس کے بعد وہ چھپ گئیں جب حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں پر گرفتاریوں کا دائرہ وسیع کیا۔

اپوزیشن لیڈر کو نوبل انعام ملنے کے بعد وینزویلا نے ناروے میں اپنا سفارت خانہ بند کیوں کیا؟

مچاڈو نے کہا کہ وینزویلا کے لوگ وقت پر یہ نہیں سمجھ پائے کہ ان کا ملک دھیرے دھیرے ایک آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”چیزوں کے بگڑنے تک، ایک شخص جس نے پہلے فوجی بغاوت کے ذریعے جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی، صدر منتخب ہو گیا۔ بہت لوگوں نے خیال کیا کہ شخصیت قانون کی جگہ لے سکتی ہے۔“

مچاڈو نے اپنے نوبل انعام کو جزوی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام وقف کیا، جنہوں نے خود بھی اس اعزاز کے مستحق ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ مچاڈو نے ٹرمپ کے قریبی حامیوں کے موقف کی حمایت کی، جو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ مجرمانہ گروہوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں کیریبین اور لاطینی امریکا کے بحر الکاہل میں مبینہ منشیات کی اسمگلنگ کشتیوں پر 20 سے زیادہ فوجی حملے کیے، جن پر بعض انسانی حقوق کے گروپس اور ممالک نے اعتراض کیا کہ یہ شہریوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں ہیں۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *