اے پی جے عبد الکلام نے کہا تھا: ”جب سیکھنے کا مقصد واضح ہوتا ہے تو تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، جب تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں تو سوچ جنم لیتی ہے، اور جب سوچ جنم لیتی ہے تو علم پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔“
اس وقت دنیا کی توجہ پائیدار ترقی کی طرف ہے۔ گرین فنانس، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل کاروبار اور آب و ہوا کے حوالے سے ماحول دوست طریقوں کو اپنایا جارہا ہے۔ پاکستان بھی بنیادی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ تبدیلی HR (ہیومن ریسورسز) پالیسیوں کی تبدیلی ہے۔ نیا عالمی منظرنامے میں ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو جغرافیائی سرحدوں اور زمانے کے فرق کو پس پشت ڈال کر مشترکہ اہداف کے لیے ہمہ وقت کام کرسکیں۔
زبان، ثقافت، معاشرتی حقائق اور انفرادی امنگوں کا تنوع دراصل وہ تخلیقی قوت ہے جو روایتی یا یک سمتی سوچ سے آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے اور اداروں کو ایک نئے ارتقائی مرحلے میں داخل کرتی ہے۔ یہ تبدیلی اگرچہ وقت کی ضرورت ہے، مگر اپنے ساتھ کئی منفرد چیلنج بھی لے کر آئی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں روایتی نظاموں کے ساتھ مانوسیت ہے، وہاں ٹیکنالوجی پر مبنی شفافیت، تنقیدی و تخلیقی سوچ اور فوری رابطے کا نیا دور فوری حل اور طویل مدتی ادارہ جاتی تبدیلی کے درمیان کشیدگی پیدا کرتا ہے۔
معیشت ہمیشہ سے دنیا میں تبدیلی لانے والا عنصر رہا ہے۔ خوراک اور خدمات کی ضرورت نے ابتدائی زرعی تہذیبوں کو جنم دیا، مقامی وسائل کی کمی نے نوآبادیاتی سلطنتوں کو فروغ دیا، مالی خودمختاری کی دوڑ نے ایٹمی ریاستوں کی حوصلہ افزائی کی، اور نقل و حرکت کی کمی نے دنیا کو آن لائن رابطوں کی جانب موڑ دیا۔
دکانیں چلتی ہیں تو لوگوں کو کمائی ہوتی ہے اور پھر وہ خرچ بھی کرتے ہیں۔ اب وہ حقیقت جسے سمجھنا ناگزیر ہے، یہ ہے کہ آج معیشت کا پہیہ تخلیقی صلاحیت سے چلتا ہے اور تخلیقی صلاحیت نہ مانگی جا سکتی ہے، نہ ہی مسلط کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو صرف اسی وقت جنم لیتا ہے جب انسان کو جذباتی سطح پر سمجھا جائے، اعتماد دیا جائے اور اُسے سوچنے سمجھنے، نظر آنے والی حقیقت سے آگے دیکھنے اور نئی جہتوں کو دریافت کرنے کی آزادی دی جائے۔ ایسی تخلیقی فضا کے لیے خوش، مطمئن اور خیال رکھنے والا افرادی ڈھانچہ وقت کی اولین ضرورت ہے۔
نئی نسل غیرمنطقی روایات اور غیرضروری رکاوٹوں کو نہیں مانتی، اور اپنا راستہ خود بنانے کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنے خوابوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہے۔ خوش قسمتی سے آج ہمارے پاس بے بی بومرز سے لے کر الفا تک تمام نسلوں کا امتزاج موجود ہے۔ تجربہ، دانائی، صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا ایک حسین امتزاج ایک نئے راستے کی تشکیل کے لیے تیار ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہیومن ریسورسز (HR) جو کبھی پس منظر میں سمجھا جانے والا انتظامی شعبہ تھا توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
اگرچہ ہم میں سے اکثر کم عمری ہی سے قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں اور نماز پڑھنے سے لے کر معاشرتی مواقعوں میں اس کی باقاعدگی سے تلاوت بھی کرتے ہیں، لیکن ابھی تک ہم نے اس کی فکری اور اخلاقی تعلیمات کو اپنی افرادی قوت (HR) پالیسیوں میں شامل نہیں کیا۔ ہم 10.0 یا 12.0 جیسی جدید ترین HR پالیسیوں کے پیچھے دوڑتے ہیں، مگر اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ بہترین رہنمائی تو پہلے ہی ہمارے گھروں اور دفاتر میں ایک ناقابلِ تردید دستاویز کی صورت میں موجود ہے۔
قرآنِ مجید پیشہ وارانہ طرزِ عمل کے لیے ایک جامع فریم ورک ہے، جو کام کی جگہ کے تعلقات کو روحانی اور اخلاقی ترقی کے مواقع میں بدل دیتا ہے۔ اس رہنمائی کی بنیاد عدل کے اصول پر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کی خاطر گواہی دیتے ہوئے، خواہ وہ تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔“ (4:135) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی ذاتی مفاد یا جانبداری میں نہیں بلکہ انصاف، دیانت اور غیرجانبدار رویے میں ہے۔
یہی عدل احترام اور نرمی سے گفتگو میں جھلکتا ہے، جہاں ہمیں حکم دیا گیا: ”لوگوں سے بھلائی کی بات کرو۔“ (2:83) اور ”انصاف کی بات کہو، خواہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔“ (6:152) یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی اور احترام پر مبنی مکالمہ عہدہ یا مرتبے سے بالاتر ہونا چاہیے۔
امانت کا تصور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو ایک مقدس فریضہ بنادیتا ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے سپرد کرو جن کے وہ حق دار ہیں۔“ (4:58) یوں راز داری، وعدوں کی پاسداری اور اعتماد کی بحالی محض پیشہ وارانہ تقاضے نہیں بلکہ ایمان کا حصہ بن جاتے ہیں۔
قرآنی اصول شوریٰ (مشاورت) قیادت میں شراکت اور اجتماعی فیصلے کے تصور کو فروغ دیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ”اور وہ لوگ جو اپنے معاملات باہمی مشورے سے طے کرتے ہیں۔“ (42:38) یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہے جو دوسروں کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھے۔ اسی طرح صبر کام کی جگہ پر پیش آنے والی مشکلات اور دباؤ سے نمٹنے کا بنیادی وصف قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا گیا: ”اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو۔“ (156-155:2) یہ صبر برداشت نہیں بلکہ وقار، ضبطِ نفس اور مثبت طرزِ عمل کی علامت ہے۔
قرآن کی یہ ہدایت کہ”تجسس نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔“(49:12) کام کی جگہ کے منفی رویوں اور افواہوں کے سدباب کے لیے ایک لازمی اخلاقی معیار فراہم کرتی ہے۔ آخر میں، احسان کا اصول پیشہ وارانہ کارکردگی کو عبادت کے درجہ تک بلند کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا گیا۔”اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔“(2:195) یعنی کام میں بہترین کارکردگی دکھانا محض پیشہ وارانہ کامیابی نہیں بلکہ روحانی کمال کی علامت ہے۔
جب اِن قرآنی اصولوں کو روزمرہ کے عمل میں شامل کیا جائے تو ادارے ایسے بن جاتے ہیں جہاں ملاقاتیں شکرگزاری سے شروع ہوتی ہیں، اختلافات نرمی اور احترام سے حل کیے جاتے ہیں، راز داری کو مقدس سمجھا جاتا ہے، فیصلے مشاورت سے کیے جاتے ہیں، اور کارکردگی صرف پیشہ وارانہ معیار نہیں بلکہ روحانی نصب العین بن جاتا ہے۔
اگر میں صادق، محسن، منصف، امین، رحیم جیسے اوصاف کا ذکر کروں تو بظاہر یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں، مگر درحقیقت یہی وہ خصوصیات ہیں جو ایک مثالی اور باوقار ابلاغی ثقافت کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ اگر ہم ان اوصاف کو اپنے کام، رویوں اور تعلقات کا حصہ بنا لیں تو ہم ایک ایسی تنظیمی ثقافت تشکیل دے سکتے ہیں جو شفافیت، اعتماد، کارکردگی اور بہتری کی سمت گامزن ہو۔ ایسی ثقافت جس میں رکاوٹیں نہیں بلکہ وہ تبدیلیاں ہوں جو ماحول کو بہتر بناتی ہیں۔
اس کی ایک نمایاں مثال فیصل بینک کی حالیہ پیش رفت ہے، جس نے ایک کمیونی کیشن گائیڈ متعارف کرائی ہے۔ اس رہنما دستاویز کا مقصد بینک کے اقدار پر مبنی وژن کو مزید مضبوط بنانا اور ہر ٹیم ممبر کو اس مشن کا ذمہ دار سفیر بنانا ہے۔ تاہم میں اس اقدام کو ایک وسیع تر زاویے سے دیکھتا ہوں۔ یہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں ایسی سوچ کو پورے کارپوریٹ اور ادارہ جاتی منظرنامے میں فروغ دینا چاہیے، تاکہ ہماری افرادی قوت نہ صرف ترقی اور جدت میں منفرد ہو بلکہ فہم، توازن اور مقصدیت میں بھی نمایاں شناخت حاصل کرے۔
معروف ماہرِ معاشیات رچرڈ فلوریڈا کے بقول ”انسانی تخلیقی صلاحیت ہی سب سے بڑا معاشی سرمایہ ہے۔“ آج کے اس تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی، معاشی اور سیاسی ماحول میں یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت پر مبنی محسوس ہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں غیر یقینی صورتِ حال ہی واحد یقینی امر بن چکی ہے، اور تبدیلی ہی واحد مستقل حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں تخلیقی صلاحیت وہ طاقت ہے جو نہ صرف اس تیز رفتار دنیا کو استحکام اور سمت فراہم کر سکتی ہے بلکہ اسے بہتری اور ترقی کی جانب بھی لے جا سکتی ہے۔
نوٹ: مصنف کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔