پودوں کے ’سانس لینے کا عمل‘ دیکھنا ممکن ہوگیا – Technology



سائنس دانوں نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی بار پودوں کے سانس لینے کے عمل کو براہِ راست دیکھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اس نئی سائنسی تحقیق کے ذریعے پودوں کے پتوں میں موجود باریک سوراخوں کی سرگرمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ہوا اور پانی کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں بہتر فصلوں کی تیاری اور پانی کے مؤثر استعمال میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق امریکا کی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کے سائنس دانوں نے کی ہے۔ انہوں نے ایک جدید آلہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے پودوں کے پتوں میں موجود نہایت باریک سوراخوں، جنہیں ’اسٹوماٹا‘ کہا جاتا ہے، کی سرگرمی کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ چھوٹے سوراخ پودوں میں ہوا کے لین دین کا کام کرتے ہیں۔ انہی کے ذریعے پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ اندر لیتے ہیں اور آکسیجن اور پانی کے بخارات خارج کرتے ہیں۔ یہی عمل پودوں کی خوراک بنانے اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ پودے دن کی روشنی میں یہ سوراخ کھولتے ہیں تاکہ خوراک بنا سکیں، جبکہ رات یا زیادہ گرمی اور خشکی میں انہیں بند کر لیتے ہیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو۔ نئی مشین کی مدد سے یہ عمل پہلی بار حقیقی وقت میں دیکھا گیا ہے۔

تحقیق کے دوران پتے کے ایک چھوٹے حصے کو ایک خاص ڈبے میں رکھا گیا، جہاں روشنی، درجہ حرارت، نمی اور ہوا کی مقدار کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔ اس سے سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ مختلف حالات میں پودے کس طرح ردِعمل دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پانی کی کمی اور شدید گرمی فصلوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اس تحقیق سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کون سے پودے کم پانی میں بھی بہتر طور پر زندہ رہ سکتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس نئی معلومات کی بنیاد پر مستقبل میں ایسی فصلیں تیار کی جا سکتی ہیں جو خشک سالی کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

اس نئی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ حاصل کر لیا گیا ہے، تاہم یہ فی الحال عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *