وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے حوالے سے قائم کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے، جبکہ حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی نے خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پندرہ روزہ کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کرنے کی سفارش کی تھی۔
وزیراعظم کی جانب سے اس سفارش کی منظوری کے بعد امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں قیمتوں کا جائزہ ہر ہفتے لیا جائے گا۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اصولی فیصلہ بھی کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ اعلان میں پٹرول کی قیمت میں تقریباً 25 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر تک اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔
امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کروڈ دونوں کی قیمتیں 90 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی فی بیرل قیمت بڑھ کر 89 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ برینٹ کروڈ کی قیمت بھی اضافے کے بعد 91 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے۔
حملوں کی نئی لہر کے بعد توانائی مارکیٹس میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے، تیل کی قیمتوں میں 2020 کے بعد سب سے تیز اضافہ دیکھا گیا۔