پی ٹی آئی کو کراچی کے باغ جناح میں جلسے کی 26 شرائط کے ساتھ اجازت – Pakistan



Ads

کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آج باغ جناح میں جلسہ کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق جلسے کے لیے این او سی 26 شرائط کے ساتھ جاری کیا گیا ہے، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اجازت منسوخ کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس برقرار رہے گا۔ این او سی کے تحت جلسہ شام آٹھ بجے سے رات بارہ بجے تک منعقد کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جلسے کے لیے 26 نکات پر عمل کرنا ضروری ہوگا۔ شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ پنڈال کی مکمل چیکنگ کے بعد اسے منتظمین کے حوالے کرے گا۔ جلسے کی آغاز سے اختتام تک مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی اور اس کی سی ڈی اگلے روز متعلقہ اداروں کو جمع کرانا منتظمین کی ذمہ داری ہوگی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام شرائط اس مقصد کے تحت رکھی گئی ہیں تاکہ جلسہ پُرامن انداز میں منعقد ہو، عوامی نظم و ضبط برقرار رہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ابتدائی طور پر این او سی کے اجرا میں تاخیر کے باعث پی ٹی آئی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا تھا کہ جلسہ مزار قائد کے گیٹ کے باہر کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی رہنما راجہ اظہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں سندھ حکومت کی جانب سے این او سی موصول نہیں ہوا، میڈیا میں گردش کرنے والے لیٹر کے بارے میں بھی ان کے پاس کوئی باضابطہ اطلاع نہیں تھی۔ ا

ن کا کہنا تھا کہ اگر لیٹر درست بھی ہو تو اتنی دیر سے اجازت ملنے کی صورت میں انتظامات ممکن نہیں رہتے، اسی لیے مزار قائد کے گیٹ پر جلسے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور باغ جناح سے کرسیاں اور دیگر سامان بھی ہٹایا جا رہا تھا۔

بعد ازاں سندھ حکومت کی جانب سے باغ جناح کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے اور سڑک پر جلسہ نہ کرنے کی ہدایت کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے جلسہ باغ جناح میں ہی کرنے کا اعلان کر دیا۔

حکومت سندھ نے واضح کیا کہ سڑکوں پر جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور عوام کو تکلیف پہنچانے والے کسی اقدام کی اجازت نہیں ہوگی۔

پی ٹی آئی کے مؤقف پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

سندھ کے وزیرداخلہ ضیاء لنجار نے کہا کہ اگر کسی بھی سڑک پر جلسہ کیا گیا تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب تک پی ٹی آئی کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، تاہم حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے بھی واضح کیا کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی اجازت دی جا چکی ہے اور جلسہ وہیں ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑک پر جلسہ کرنے کی بات مناسب طرز عمل نہیں اور اس سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ باغ جناح کا مطالبہ خود پی ٹی آئی کی جانب سے کیا گیا تھا، یہ جگہ وفاق کے زیر انتظام ہے، اجازت نامے میں تاخیر ضرور ہوئی لیکن حکومت ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے بھی اس موقع پر کہا کہ جب این او سی جاری ہو چکا ہے تو جلسہ گراؤنڈ میں ہی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت جلسے کے لیے انتظامات میں تعاون کر سکتی ہے، تاہم سڑک پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

قبل ازیں باغ جناح میں جلسے کی اجازت دینے کے بعد شرجیل میمن نے واضح کیا تھا کہ جلسے کے دوران قانون اور امن و امان کی مکمل ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔ کسی قسم کی اشتعال انگیز، فرقہ وارانہ یا ریاست، پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کی اجازت نہیں ہوگی۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی منتظمین کی ذمہ داری ہوگی اور پروگرام کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *