کویت میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں – World



08083341f0ffca8 کویت میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں - World

کویت میں ایرانی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچا دی گئیں۔ ریاست ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پر منتقلی کی تقریب ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی اور فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بین القوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ سفید رنگ کی ’یو ایس اے‘ تحریر والی بیس بال کیپ پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے اس وقت سلامی دی جب فوجی اہلکار امریکی پرچم میں لپٹے تابوتوں کو فوجی طیارے سے اتار کر باہر لے جا رہے تھے۔ ڈوور ایئر فورس بیس وہ مقام ہے جہاں بیرون ملک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی میتیں سب سے پہلے امریکا لائی جاتی ہیں۔

تقریب میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سمیت دیگر اعلیٰ فوجی اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔

یہ فوجی گزشتہ اتوار کو کویت میں ایک اہم امریکی کمانڈ سینٹر پر ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایک دن قبل امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تھی۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں میں پانچ مرد اور ایک خاتون شامل تھے جن کی عمریں 20 سے 54 سال کے درمیان تھیں۔ یہ تمام فوجی ریزرو فورس سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں آئیووا کے شہر ڈیس موئنز میں قائم 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا۔ اس یونٹ کی ذمہ داری میدان جنگ میں موجود فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سامان اور گولہ بارود فراہم کرنا ہوتی ہے۔

فوجیوں کی میتوں کی وطن واپسی کو امریکی فوج میں ”باوقار منتقلی“ کہا جاتا ہے اور اسے انتہائی احترام کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی باقاعدہ سرکاری تقریب نہیں ہوتی، تاہم اس کا طریقہ کار مکمل فوجی نظم و ضبط کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

تقریب کے بعد پرچم میں لپٹے تابوتوں کو خصوصی گاڑیوں کے ذریعے ڈوور میں قائم مردہ خانے منتقل کیا گیا جہاں آرمڈ فورسز میڈیکل ایگزامنر سسٹم کے ماہرین لاشوں کی شناخت مکمل کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں تدفین کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے فوجیوں کے تابوت وصول کیے جس پر انہیں بہت افسوس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہلخانہ اور ان کے بچوں پر فخر ہے جنہوں نے ملک کے لیے قربانی دی۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران میں ایسا صدر دیکھنا چاہتے ہیں جو اپنے ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے کی کوشش نہیں کر رہا۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کو ’بہت سخت‘ جواب دے گا اور حملوں کا دائرہ مزید اہداف تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *