گرین لینڈ کہاں ہے اور امریکا اس پر قبضہ کیوں کرنا چاہتا ہے؟ – World



امریکا نے وینزویلا کی حکومت گرانے کے بعد اب گرین لینڈ پر نظریں جما لی ہیں اور گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کا عندیہ دیا ہے۔

گرین لینڈ جغرافیائی طور پر براعظم شمالی امریکہ میں واقع ہے اور ڈنمارک کے زیرِ انتظام علاقہ ہے۔ یہاں کی 81 فیصد زمین مستقل برف سے ڈھکی ہوئی ہے، جس کے باعث اسے دنیا کے سرد اور سخت ترین خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

گرین لینڈ میں یورینیم، سونا، تیل و گیس کےعلاوہ ریئر ارتھ منرلز (نایاب معدنیات) کے ذخائر موجود ہیں۔ ’جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اینڈ گرین لینڈ‘ (جی ای یو ایس) کے مطابق گرین لینڈ میں نایاب دھاتوں کے مجموعی ذخائر کا تخمینہ 36.1 ارب ٹن لگایا گیا ہے۔

اس علاقے میں 17 نایاب دھاتیں جدید ٹیکنالوجی انڈسٹری اور دفاعی صنعت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں اور انہیں ڈرونز، ونڈ ٹربائنز، ہارڈ ڈرائیوز، الیکٹرک گاڑیوں، دوربینوں اور جنگی طیاروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

Source: AFP

گرین لینڈ کی زمین میں گریفائٹ، لیتھیم اور تانبہ بھی پایا جاتا ہے جسے مستقبل میں توانائی کا اہم ذریعہ قرار دیا جارہا ہے۔ گرین لینڈ میں گریفائٹ کے ذخائر کا تخمینہ 60 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے، جو عالمی مجموعی ذخائر کا تقریباً 0.75 فیصد بنتا ہے۔ ’لیتھیم‘ بیٹریوں میں استعمال ہونے والا سب سے اہم جزو ہے جس کی 2040 تک طلب آٹھ گنا بڑھنے کا امکان ہے.

مئی 2024 کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق معدنیات کی عالمی مارکیٹ پر چین کا غلبہ ہے۔ گرین لینڈ میں موجود ذخائر چین پر انحصار کم کرنے کے خواہاں مینوفیکچررز کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکا بھی عالمی مارکیٹ میں چین کی اجارہ داری کم کرنے کے لیے اپنے قریبی ممالک میں نایاب معدنیات تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس پر یورپی ممالک خصوصاً ڈنمارک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ امریکا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس وقت یہ علاقہ روس اور چین کے بحری جہازوں سے گِھرا ہوا ہے جس کے پیشِ نظر امریکا کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس علاقے کی ضرورت ہے۔

ڈنمارک انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ اُلرک پرام گیڈ نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں ٹرمپ کے اس دعوے پر کہا کہ اگرچہ آرکٹک میں روسی اور چینی جہاز موجود ہیں مگر وہ گرین لینڈ سے اتنے دور ہیں کہ دوربین سے بھی نظر نہیں آتے۔

وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں امریکی فوج کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔

جس کے بعد فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک نے امریکا کے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

خصوصاً ڈنمارک نے ٹرمپ کے بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضے کی کوشش کی تو یہ نیٹو اتحاد کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل اپنے اپنے پہلے مدتِ صدارت کے دوران بھی گرین لینڈ کو خریدنے کا خیال پیش کر چکے تھے۔ تاہم وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کے اغوا جیسے آپریشن کے بعد امریکا نے گرین لینڈ پر کنٹرول اور فوجی آپشن کے استعمال کے بیانات دے کر دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

گرین لینڈ کا حصول امریکی صدر ٹرمپ کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ ان سے قبل بھی امریکا کے صدور اس خطے کو امریکا کا حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔

سی این این سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ رئیل اسٹیٹ ذہن رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک گرین لینڈ آئندہ دہائیوں میں معاشی اور دفاعی لحاظ سے نہایت قیمتی علاقہ بن سکتا ہے۔

نئی تجارتی گزرگاہیں

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آرکٹک کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر گرین لینڈ پر پڑ رہا ہے۔ گرین لینڈ کی برف پگھلنے سے آرکٹک میں تین بڑی بحری گزرگاہیں نمایاں ہو رہی ہیں۔

ان نئے بحری راستوں میں سے پہلا ’نارتھ ویسٹ پیسیج‘ ہے۔ یہ گزرگاہ کینیڈا کے شمالی جزائر سے گزرتی ہے اور گرین لینڈ کے ساحلوں کے بہت قریب واقع ہے۔ یہ راستہ اب باضابطہ طور پر کھل چکا ہے اور موسمِ گرما کے دوران یہاں سے تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ یہ گزرگاہ ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کو نہر سوئز کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد تک کم کر دیتی ہے۔ 

آرکٹک کی برف پگھلنے سے بننے والا ’ٹرانس پولر روٹ‘ بھی ایک نئی گزرگاہ ہے۔ یہ راستہ ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہے تاہم اسے مئی سے اکتوبر کے دوران استعمال کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

امریکا کے لیے ان میں سے سے اہم ’نارتھ ایسٹ پیسیج‘ یا ’ناردرن سی روٹ‘ ہے۔ اگرچہ یہ روس کے ساحل کے ساتھ واقع ہے لیکن اس کے دہانے پر واقع ہونے ہونے کی وجہ سے گرین لینڈ ایک اہم ’گیٹ وے‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ روس اسے اپنا ’ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ قرار دیتا ہے کیونکہ یہ روٹ روس کے آرکٹک علاقوں میں موجود قدرتی وسائل (گیس، تیل، معدنیات) کی عالمی منڈیوں تک رسائی کا اہم ذریعہ ہے۔

چین اس روٹ کو اپنے ’پولر سلک روڈ‘ منصوبے کے لیے اہم سمجھتا ہے تاکہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات (تیل اور گیس) کے لیے امریکی اثر و رسوخ والے راستوں پر انحصار کم کر سکے۔

گرین لینڈ اِن تمام گزرگاہوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے مستقبل کی عالمی تجارت میں ایک مرکزی ”چیک پوسٹ“ اور ”ری فیولنگ ہب“ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

گرین لینڈ میں امریکی فوج

گرین لینڈ میں آج بھی امریکا کا فوجی اڈہ موجود ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈنمارک نے خود امریکی فوج کو باضابطہ طور پر گرین لینڈ میں فوج تعینات کرنے کی دعوت دی تھی۔ 1941 میں جرمنی کے قبضے کے بعد ڈنمارک نے امریکی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ڈنمارک کی نیٹو میں شمولیت کے بعد 1951 میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے تحت امریکہ کو گرین لینڈ میں فوجی اڈوں کے قیام سمیت مزید اختیارات بھی دے دیے گئے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق گرین لینڈ کے عوام کی اکثریت امریکی کنٹرول کی مخالف اور ساتھ ہی ڈنمارک سے مکمل آزادی کے حق میں ہے۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینس فریڈرک نیلسن کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ امریکا راتوں رات ان کے ملک پر قبضہ کرسکتا ہے، لیکن وہ امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *