گُل پلازہ آتشزدگی: دنیا میں ایسے واقعات پر کیسے قابو پایا جاتا ہے؟ – Pakistan



کراچی کے گُل پلازہ میں 17 جنوری کی شب لگنے والی ہولناک آگ نے ایک سانحے کو جنم دیا۔ آتشزدگی کے ایسے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں مگر اُن پر قابو پانے کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تین روز بعد قابو پایا گیا۔ اس آگ کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں کی تاحال کوئی خبر نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں سامنے آتے ہیں مگر پاکستان میں ہر ایسے واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کے رسپانس ٹائم اور حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان اٹھنے لگتے ہیں۔

گُل پلازہ میں آگ پر قابو پانے کے لیے جدید طریقوں کے بجائے روایتی طریقوں کے استعمال پر بھی تاجر برادری اور شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق گُل پلازہ میں موجود پلاسٹک اور دیگر سامان کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب گُل پلازہ مارکیٹ کے صدر اور متاثرہ دکاندار مسلسل یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر تاخیر سے پہنچا، بروقت ہنگامی امداد سے آگ پر قابو پایا جاسکتا تھا۔

گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی اہلکاروں کے پاس حفاظتی سامان اور آلات کی کمی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اس سانحے میں 33 سالہ فائر فائٹر فرقان عمارت میں پھنسے افراد کی جان بچاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا تھا اور امدادی سرگرمیوں کے دوران دو فائر فائٹرز زخمی بھی ہوئے۔

اس وقت عمارت کا چالیس فیصد حصہ منہدم اور باقی مخدوش ہوچکا ہے، جو کسی بھی وقت زمیں بوس ہوسکتا ہے۔

سانحہ گل پلازہ سے قبل کراچی میں آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ جن میں لانڈھی اور سائٹ ایریا کی فیکٹریاں شامل ہیں، جو زمیں بوس ہوئیں۔

دنیا بھر میں فائر بریگیڈ کے لیے آگ پر قابو پانے کا نظام اب جدت اختیار کرچکا ہے۔ آگ پر جلد از جلد قابو اور کم سے کم نقصان کے لیے اطلاع ملتے ہی فوری موقع پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آگ کی نوعیت کے لحاظ سے مخصوص اور جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

عالمی سطح پر نقصانات سے بچنے کے لیے فائرفائٹنگ کے طے شدہ اصول متعین ہیں۔ یہ وہ طریقے اور آلات ہیں کہ جن کی مدد سے فوری طور پر آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *